3983 – "ومن مسند عمر رضي الله عنه" عن عمر قال "خرج رسول الله صلى الله عليه وسلم لحاجته، فلم يجد أحدا يتبعه، ففزع عمر، فأتاه بمطهرة جلد، فوجد النبي صلى الله عليه وسلم ساجدا في مشربة1 فتنحى عنه من خلفه، حتى رفع النبي صلى الله عليه وسلم رأسه، فقال "أحسنت يا عمر حين وجدتني ساجدا فتنحيت عني إن جبريل أتاني فقال من صلى عليك من أمتك واحدة صلى الله عليه عشرا، ورفعه بها عشر درجات". "طس ص".
3983: (مسند عمر (رض)) حضرت عمر (رض) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اپنی حاجت کے لیے باہر نکلے دیکھا کہ کوئی آپ کے ہمراہ نہیں ہے۔ حضرت عمر (رض) گھبرا گئے۔ چنانچہ پانی سے بھرا ہوا چمڑے کا ایک برتن لے کر پیچھے گئے۔ قریب پہنچ کر دیکھا گہ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک چبوترے پر سجدہ ریز ہیں۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے قریب سے ہٹ کر پیچھے کھڑے ہوگئے۔ حتی کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سجدہ سے اپنا سر مبارک اٹھایا اور فرمایا : اے عمر ! تم نے اچھا کیا جو مجھے سجدہ میں دیکھ کر پیچھے ہٹ گئے۔ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس تشریف لائے تھے اور یہ فرما گئے ہیں کہ آپ کی امت میں سے جو شخص ایک مرتبہ درود بھیجے گا اللہ پاک اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور دس درجے بلند فرمائے گا۔ الاوسط للطبرانی، السنن لسعید بن منصور۔