hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 3995

.

كنز العمال

3995
Kanz al-Ummal
3995 – "عبد الرحمن بن عوف" عن عبد الرحمن بن عوف قال "دخلت المسجد فرأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم خارجا من المسجد فأتيته أمشي وراءه ولا يشعر بي، ثم دخل نخلا فاستقبل القبلة، فسجد وأطال السجود وأنا وراءه، حتى ظننت أن الله قد توفاه، فأقبلت أمشي حتى جئت وطأطأت رأسي أنظر في وجهه، فرفع رأسه فقال ما لك يا عبد الرحمن؟ فقلت: لما أطلت السجود يا رسول الله خشيت أن يكون الله توفى نفسك، فجئت أنظر، فقال إني لما رأيتني دخلت النخل لقيت جبريل فقال أبشرك أن الله عز وجل يقول: من سلم عليك سلمت عليه ومن صلى عليك صليت عليه ". "ابن النجار".
3995: (عبدالرحمن بن عوف رضی اللہ عن) حضرت عبدالرحمن (رض) بن عوف سے مروی ہے آپ (رض) فرماتے ہیں : میں مسجد میں داخل ہوا تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو مسجد سے باہر دیکھا۔ چنانچہ میں چلتا ہوا آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پیچھے پہنچا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنے پیچھے مجھے محسوس نہیں کیا اور آپ چلتے رہے حتی کہ ایک باغ میں داخل ہوگئے اور قبلہ رو ہوئے اور سجدہ میں پڑگئے اور بہت ہی لمبا سجدہ کیا، جب کہ میں آپ کے پیچھے تھا۔ آخر مجھے اندیشہ لاحق ہوا کہ شاید آپ اسی حالت میں وفات پاچکے ہیں۔ چنانچہ میں آگے ہوا اور میں نے سر نیچے کرکے آپ کے چہرہ انور کو دیکھا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر اٹھایا اور پوچھا : کیا بات ہے ؟ اے عبدالرحمن ! میں نے عرض کیا یا رسول اللہ ! آپ نے سجدہ بہت لمبا کردیا تو مجھے خطر ہوا کہ شاید اللہ نے آ پکی روح قبض فرما لی ہے۔ اس لیے میں دیکھنے لگا۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : جب تم نے مجھے باغ میں داخل ہوتا دیکھا اس وقت جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس تشریف لائے تھے اور فرما گئے کہ (اے محمد) میں آپ کو خوشخبری دیتا ہوں کہ اللہ عزوجل فرماتے ہیں : جس نے آپ پر سلام بھیجا میں اس پر سلام بھیجوں گا اور جس نے آپ پر درود بھیجا میں اس پر درود بھیجوں گا۔ (رواہ ابن النجار)