4000 – "أوس بن الحدثان" عن سلمة بن ورد أن قال سمعت أنس بن مالك وأوس بن الحدثان يقولان: "إن النبي صلى الله عليه وسلم خرج يتبرز فلم يجد أحدا يتبعه، ففزع عمر فأتبعه بفخارة أو مطهرة فوجده في مشربة فتنحى فجلس حتى يرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم رأسه، فقال: "أحسنت يا عمر حين وجدتني فتنحيت عني، إن جبريل أتاني فقال يا محمد: من صلى عليك واحدة صلى الله عليه عشرا، ورفع له عشر درجات". "أبو نعيم".
4000: (اوس بن حدثان) سلمہ (رح) بن ورد سے مروی ہے وہ فرماتے ہیں : میں نے حضرت انس بن مالک اور حضرت اوس بن حدثان (رض) کو فرماتے ہوئے سنا :
ایک مرتبہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) قضائے حاجت کے لیے باہر نکلے۔ لیکن کسی کو ساتھ آتا ہوا نہ پایا۔ حضرت عمر (رض) حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو تنہا جاتے ہوئے دیکھ کر گھبرا گئے (کہیں کوئی دشمن درد آزار نہ ہوجائے) چنانچہ حضرت عمر (رض) پانی کا برتن لے کر پیچھے چل دیے۔ آگے جا کر آپ کو ایک چبوترے پر (سجدہ میں) پایا۔ حضرت عمر (رض) ایک طرف ہو کر بیٹھ گئے۔ آخر حضور اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے سر مبارک اٹھایا اے عمر ! تم نے بہت اچھا یا کہ مجھے سجدہ میں دیکھ کر اک طرف ہٹ کر بیٹھ گے۔ جبرائیل (علیہ السلام) میرے پاس تشریف لائے تھے۔ انھوں نے فرمایا ہے اے محمد ! جو آپ پر ایک بار درود بھیجے گا اللہ پاک اس پر دس رحمتیں نازل فرمائے گا اور دس درجات اس کے بلند فرمائے گا۔ (رواہ ابو نعیم)