40151- عن عمر قال: لا يقاد العبد من الحر، وتقاده المرأة من الرجل في كل عمد يبلغ نفسا فما دونها من الجراح، فإن اصطلحوا على القتل أدى في عقل المرأة في ديتها فما زاد في الصلح في ديتها فليس على العاقلة شيء إلا أن يشاؤا، ويقاد المملوك من المملوك في كل عمد يبلغ نفسه فما دون ذلك، فإن اصطلحوا على القتل فقيمة المقتول على أهل القاتل أو الجارح."عب".
٤٠١٥١۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : غلام کا بدلہ آزاد سے نہ لیا جائے، البتہ عورت مرد سے ہراس قصدکابدلہ لے سکتی ہے جو جان کے ضیاع یازخم تک پہنچ جائے، پھر اگر وہ لوگ قتل پر صلح کرلیں تو عورت کی دیت میں، دیت ادا کی جائے جو بچ جائے تو عاقلہ پر کچھ واجب نہیں ہاں جو وہ چاہیں۔ اور غلام کی دیت غلام سے ہراس قصد میں لی جائے گی جو نفس انسانی کے ضیا ع یا اس سے کم تک پہنچ جائے، پھر اگر وہ قتل پر صلح کرلیں تو مقتول کی قیمت قاتل یازخمی کرنے والے کے مالکوں پر لازم ہوگی۔ رواہ عبدالرزاق