4017 - عن قرظة بن كعب الأنصاري قال: "أردنا الكوفة فشيعنا عمر إلى صرار فتوضأ فغسل مرتين، ثم قال: تدرون لم شيعتكم؟ قلنا: نعم، نحن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم، قال: إنكم تأتون أهل قرية لهم دوي بالقرآن كدوي النحل، فلا تصدوهم بالأحاديث فتشغلوهم جردوا القرآن وأقلوا الرواية، عن رسول الله صلى الله عليه وسلم، امضوا وأنا شريككم". "ابن سعد".
4017: قرظۃ بن کعب انصاری فرماتے ہیں : ہم چند لوگوں نے کوفہ جانے کا ارادہ کیا۔ چنانچہ حضرت عمر (رض) اصرار (مدینہ سے عراق جاتے ہوئے تین میل پر ایک پرانا کنواں تھا) تک ہمیں رخصت کرنے آئے۔ آپ (رض) نے وہاں وضوء کیا اور دو مرتبہ اعضاء وضوء کو دھویا پھر فرمایا : تم جانتے ہو میں کیوں تم کو رخصت کرنے یہاں تک آیا۔ ہم نے عرض کیا : ہاں، ہم چونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے صحابہ ہیں۔ فرمایا : تم ایسی قوم کے پاس جا رہے ہو جہاں شہد کی مکھی کی طرح قرآن کی آواز گونجتی رہتی ہے لہٰذا تم لوگ احادیث کے ساتھ ان کو قرآن سے مت روک دینا۔ ان کو قرآن کے ساتھ مشغول رہنے دو اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی روایات کم سناؤ۔ پس اب جاؤ اور میں بھی تمہارا ساتھی ہوں۔ (ابن سعد (رض))