40158- عن الشعبي أن قتيلا وجد بين وادعة وشاكر فأمرهم عمر بن الخطاب أن يقيسوا ما بينهما فوجدوه إلى وادعة أقرب، فأحلفهم عمر خمسين يمينا كل رجل "ما قتلت ولا علمت قاتلا" ثم أغرمهم الدية، فقالوا: يا أمير المؤمنين! لا أيماننا دفعت عن أموالنا ولا أموالنا دفعت عن أيماننا، فقال عمر: كذلك الحق."عب، ش، ق".
٤٠١٥٨۔۔۔ شعبی سے روایت ہے کہ وادعۃ اور شاکرکے درمیان ایک مقتول پایا گیا تو حضرت عمربن خطاب (رض) نے لوگوں کو حکم دیا کہ وہ دونوں جگہوں کو ناپیں، توا سے وادعۃ کے زیادہ قریب پایا، تو حضرت عمر (رض) نے ہر آدمی سے پچاس قسمیں لیں، نہ میں نے قتل کیا اور نہ مجھے قاتل کا علم ہے، پھر ان پر دیت کا تاوان مقرر کیا، انھوں نے کہا : امیرالمومنین ! نہ تو ہماری قسموں نے ہمارے مال کا دفاع کیا اور نہ ہمارے مال نے ہماری قسموں کا دفاع کیا آپ نے فرمایا : حق اسی طرح ہے۔ عبدالرزاق، ابن ابی شیبۃ، بیھقی