40168- عن يزيد بن أبي منصور قال: بلغ عمر بن الخطاب أن عامله على البحرين ابن الجارود أو ابن أبي الجارود أتى برجل يقال له ادرياس قامت عليه بينة بمكاتبة عدو المسلمين وأنه قد هم أن يلحق بهم فضرب عنقه وهو يقول: يا عمراه! يا عمراه! فكتب عمر إلى عامله ذلك فأمره بالقدوم عليه، فقدم فجلس له عمر وبيده حربة فدخل على عمر فعلا عمر لحيته بالحربة وهو يقول: ادرياس لبيك! ادرياس لبيك! وجعل الجارود يقول: يا أمير المؤمنين! إنه كاتبهم بعورة المسلمين وهم أن يلحق بهم، فقال عمر: قتلته على همه وأينا لم يهمه! لولا أن تكون سنة لقتلتك به."ابن جرير".
٤٠١٦٨۔۔۔ یزید بن ابی منصور سے روایت ہے کہ حضرت عمربن خطاب (رض) کو اس بات کی اطلاع پہنچی کہ بحرین پر ان کے گورنر ابن الجارودیا ابن ابی الجارود کے پاس ایک شخص لایا گیا جسے اور پاس کہا جاتا تھا اس کے خلاف گواہی تھی کہ وہ مسلمانوں کے دشمن سے خط و کتابت کرتا اور ان سے مل جانے کا عزم رکھتا ہے تو مذکورہ گورنرنے اسے قتل کردیاجب کہ وہ کہہ رہا تھا۔ہائے عمر ! ہائے عمر ! مری مدد کرو، تو حضرت عمرنے اپنے گورنر کو لکھا کہ وہ ان کے پاس آئے جب وہ آیا تو حضرت عمر علیحدہ اس کے لیے بیٹھے آپ کے ہاتھ میں ایک بھالہ تھا، جب وہ آپ کے پاس کمرہ میں آیا تو آپ نے بھالہ سے اس کی داڑھی اوپر چڑھائی اور فرمانے لگے : اور پاس ! میں حاضر ہوں اور پاس ! میں حاضر ہوں اور جارود کہنے لگے : امیرالمومنین اس نے ان سے مسلمانوں کی پوشیدہ باتیں کی ہیں اور ان سے الحاق کا عزم کیا تھا، حضرت عمر نے فرمایا تم نے صرف اس کے ارادہ پر اسے مار ڈالا، ہم میں سے کس نے اس کا ارادہ نہ کیا، اگر یہ طریقہ نہ پڑجاتا تو میں تمہیں اس کے بدلہ قتل کردیتا۔ رواہ ابن جریر۔