hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 40188

.

كنز العمال

40188
Kanz al-Ummal
40175- عن ابن عباس قال: جاءت جارية إلى عمر بن الخطاب فقالت: إن سيدي اتهمني فأقعدني على النار حتى احترق فرجي، فقال لها عمر: هل رأى ذلك عليك؟ قالت: لا، قال: فهل اعترفت له بشيء؟ قالت: لا، فقال عمر: علي به! فلما رأى عمر الرجل قال: أتعذب بعذاب الله؟ قال: يا أمير المؤمنين! اتهمتها في نفسها، قال: أرأيت ذلك عليها؟ قال: لا، قال: فاعترفت لك به؟ قال: لا، قال: والذي نفسي بيده لو لم أسمع رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "لا يقاد مملوك من مالكه ولا ولد من والده" لأقدتها منك! وضربه مائة سوط، وقال للجارية: اذهبي فأنت حرة لوجه الله وأنت مولاة الله ورسوله، أشهد لسمعت رسول الله صلى الله عليه وسلم يقول: "من حرق بالنار أو مثل به فهو حر وهو مولى الله ورسوله"."طس، ك، ق".
٤٠١٧٥۔۔۔ حضرت ابن عباس (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایک لونڈی حضرت عمربن خطاب (رض) کی خدمت میں آئی اور کہنے لگی : کہ مرے آقانے مجھ پر تہمت لگائی اور مجھے آگ پر بٹھایاجس کی وجہ سے مری شرمگاہ جھلس گئی تو حضرت عمرنے اس سے فرمایا (رح) : اس نے کوئی چیز دیکھی ؟ وہ بولی : نہیں، آپ نے فرمایا : تم نے اس کے سامنے کوئی اعتراف کیا ؟ اس نے کہا : نہیں حضرت عمرنے فرمایا : اس شخص کو مرے پاس لاؤ، حضرت عمرنے جب اس شخص کو دیکھاتو فرمایا : کیا تم اللہ تعالیٰ کا عذاب دینا چاہتے ہو ؟ وہ کہنے لگا، امیرالمومنین ! میں نے اس پر تہمت رکھی ہے، آپ نے فرمایا : تم نے کوئی چیز دیکھی ؟ اس نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : اس نے تمہارے سامنے کوئی اعتراف کیا ؟ اس نے کہا : نہیں آپ نے فرمایا : اللہ کی قسم ! اگر میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو یہ فرماتے نہ سنا ہوتا کہ غلام کا بدلہ آقا سے اور بیٹے کا بدلہ باپ سے نہ لیا جائے تو میں تم سے اس کا بدلہ لیتا، اور اسے سوکوڑے مارے اور لونڈی سے فرمایا : تم جاؤ، تم اللہ تعالیٰ کی خاطر آزاد ہو آج سے تم اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی باندی ہو، میں گواہ ہوں میں نے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کو فرماتے سنا : جو آگ سے جلایا گیا اس کا مثلہ کیا گیا تو وہ آزاد ہے وہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کا غلام ہے۔ طبرانی فی الاوسط، حاکم، بیھقی ، کلام ۔۔۔ ذخیرہ الحفاظ ٢٦١٢۔