hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 40202

.

كنز العمال

40202
Kanz al-Ummal
40189- عن زيد بن وهب قال: خرج عمر ويداه في أذنيه وهو يقول: يا لبيكاه! يا لبيكاه! قال الناس: ما له؟ قال: جاءه بريد من بعض أمرائه أن نهرا حال بينهم وبين العبور ولم يجدوا سفنا، فقال أميرهم: اطلبوا لنا رجلا يعلم غور النهر، فأتى بشيخ فقال: إني أخاف البرد، وذلك في البرد، فأكرهه فأدخله فلم يلبثه البرد فجعل ينادي: يا عمراه! فغرق، فكتب إليه فأقبل فمكث أياما معرضا عنه - وكان إذا وجد على أحد منهم فعل به ذلك - ثم قال: ما فعل الرجل الذي قتلته؟ قال: يا أمير المؤمنين! ما تعمدت قتله، لم نجد شيئا نعبر فيه وأردنا أن نعلم غور الماء ففتحنا كذا وكذا، فقال عمر: لرجل مسلم أحب إلي من كل شيء جئت به، لولا أن تكون سنة لضربت عنقك فأعط أهله ديته واخرج فلا أراك."ق".
٤٠١٨٩۔۔۔ زید بن وھب سے روایت ہے فرماتے ہیں : ایک دفعہ حضرت عمر (رض) باہر نکلے اور ان کے دونوں ہاتھ ان کے کانوں میں تھے اور وہ یہ کہتے جارہے تھے : میں حاضرہوں ! میں حاضرہوں ! لوگوں نے کہا : انھیں کیا ہوگیا ہے ؟ تو انھوں نے کہا : ان کے پاس ان کے کسی امیر کی طرف سے خبر آئی کہ ان کے سامنے ایک نہر آگئی اور ان کے پاس کشتیاں نہ تھیں تو ان کا امیر کہنے لگا : ہمارے لیے کوئی شخص تلاش کروجونہر کی گہرائی جان سکے، اتنے میں ایک بوڑھاشخص لایا گیا وہ کہنے لگا : مجھے ٹھنڈک کا خدشہ ہے اور وہ سردیوں کا موسم تھا، چنانچہ امیرنے اسے مجبور کیا اور نہر میں اتاردیا، ٹھنڈک نے اسے زیادہ دیر نہیں رکھا کہ وہ پکار کر کہنے لگا : ہائے عمر ! پھر وہ ڈوب گیا، آپ نے اس امیر کی طرف خط لکھا، وہ آپ کے پاس آیا، آپ کچھ دن اس سے اعراض کرتے رہے، آپ کو جب بھی کسی پہ غصہ آتا اسے اس کی سزا دیتے، پھر آپ نے فرمایا : اس شخص کا کیا ہوا جسے تم نے قتل کردیا تھا ؟ وہ کہنے لگا : امیرالمومنین ! میں نے اسے قتل کرنے کا ارادہ تو نہ کیا تھا ہمارے پاس نہرعبور کرنے کی کوئی چیز نہ تھی ہم نے چاہا کہ پانی کی گہرائی کا پتہ لگاسکیں، پھر ہم نے اس طرح کیا، تو حضرت عمرنے فرمایا : ایک مسلمان شخص مجھے ان سب چیزوں سے زیادہ عزیز ہے جو تم لے کر آئے ہو، اگر طریقہ پڑجانے کا خوف نہ ہوتا تو میں تمہاری گردن اڑادیتاجاؤ ! اس کے گھروالوں کو دیت دو اور یہاں سے چلے جاؤ، پھر مجھے نظر نہ آؤ۔ دواہ البیھقی