hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 40214

.

كنز العمال

40214
Kanz al-Ummal
40201- عن الحسن قال: أرسل عمر بن الخطاب إلى امرأة مغيبة كان يدخل عليها فأنكر ذلك فأرسل إليها، فقيل لها: أجيبي عمر! فقالت: يا ويلها ما لها ولعمر! فبينما هي في الطريق فزعت فضربها الطلق فدخلت دارا فألقت ولدها فصاح الصبي صيحتين ثم مات، فاستشار عمر أصحاب النبي صلى الله عليه وسلم، فأشار عليه بعضهم أن ليس عليك شيء إنما أنت وال ومؤدب، وصمت علي فأقبل على علي فقال: ما تقول؟ قال: إن كانوا قالوا برأيهم فقد أخطأ رأيهم، وإن كانوا قالوا في هواك فلم ينصحوا لك، أرى أن ديته عليك، فإنك أنت أفزعتها وألقت ولدها في سبيلك، فأمر عليا أن يقسم عقله على قريش - يعني يأخذ عقله من قريش لأنه أخطأ."عب، ق".
٤٠٢٠١۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے : کہ حضرت عمر بن خطاب (رض) نے ایک عورت کی طرف پیغام بھیجا جس کا خاوندگھرپر نہیں تھا کہ اس کے گھر کوئی آتا ہے، اس نے اس کا انکار کیا آپ نے اس کی طرف پیغام بھیجا لوگوں نے اس سے کہا : کہ امیرالمومنین کی خدمت میں حاضر ہو وہ کہنے لگی ہائے افسوس ! امرا اور عمرکا کیا واسطہ ! اچانک جب وہ راستہ میں تھی گھبراگئی اسے دردزہ شروع ہواپھر وہ کسی گھر میں داخل ہوئی جہاں اس نے اپنا بچہ جنا، بچہ نے دوچیخیں ماریں اور مرگیا، بعد میں حضرت عمر (رض) نے صحابہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) سے مشورہ طلب کیا تو کچھ نے یہ مشورہ دیا کہ آپ یہ کوئی چیز واجب نہیں کیونکہ آپ تو صرف والی اورادب سکھانے والے ہیں، اور حضرت علی (رض) خاموش بیٹھے تھے، آپ حضرت علی (رض) کی طرف متوجہ ہوئے اور فرمایا : آپ کیا کہتے ہیں ؟ انھوں نے فرمایا، اگر انھوں نے اپنی طرف سے یہ بات کہی ہے تو ان کی رائے غلط ہے اور اگر انھوں نے آپ کی خواہش میں یا بات کہی ہے تو انھوں نے آپ سے خیرخواہی نہیں کی میں سمجھتا ہوں کہ اس کی دیت آپ کے ذمہ ہے کیونکہ آپ ہی نے اسے خوفزدہ کیا اور آپ کی خاطر اس نے اپنے بچہ کو جنم دیا چنانچہ آپ نے حضرت علی (رض) کو حکم دیا کہ اس بچہ کی دیت قریش پر تقسیم کریں یعنی قریش سے اس کی دیت وصول کریں کیونکہ ان سے غلطی ہوئی۔ عبدالرزاق ، بیھقی