40207- "مسند أبي ليلى" كان أسيد بن حضير رجلا ضاحكا مليحا فبينا هو عند رسول الله صلى الله عليه وسلم يحدث القوم ويضحكهم فطعن رسول الله صلى الله عليه وسلم بأصبعه في خاصرته، فقال: أوجعتني! قال: "اقتص"، قال: يا رسول الله! إن عليك قميصا ولم يكن على قميص، فرفع رسول الله صلى الله عليه وسلم قميصه، فاحتضنه ثم جعل يقبل كشحه يقول بأبي أنت وأمي يا رسول الله أردت هذا."كر".
٤٠٢٠٧۔۔۔ اسید بن حضیر (رض) بیس مکھ اور خوشطبع آدمی تھے ایک دفعہ وہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس لوگوں سے گفتگوکرکے انھیں ہنسا رہے تھے، نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ان کی کوکھ میں اپنی انگلی سے کچوکالگایاتو وہ کہنے لگے، آپ نے مجھے تکلیف دی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : بدلہ لے لو، وہ عرض کرنے لگے : یارسول اللہ ! آپ کے جسم پر قمیض ہے اور مرے قمیض نہ تھی، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اپنی قمیض اٹھائی تو وہ آپ سے چمٹ گئے اور آپ کے پہلو کو بوسہ دے کر کہنے لگے، میرے ماں باپ آپ پر قربان ہوں یارسول اللہ ! امیراصرف یہ ارادہ تھا۔ رواہ ابن عساکر