hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 40223

.

كنز العمال

40223
Kanz al-Ummal
40210- عن عكرمة قال: طعن رجل رجلا بقرن فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: أقدني! فقال: "دعه حتى تبرأ"، فأعادها عليه مرتين أو ثلاثا والنبي صلى الله عليه وسلم يقول: "دعه حتى تبرأ"، فأقاده به؛ ثم عرج المستقيد فجاء النبي صلى الله عليه وسلم فقال: برئ صاحبي وعرجت! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "ألم آمرك أن لا تستقيد حتى تبرأ! فعصيتني فأبعدك الله وبطل عرجك"! ثم أمر النبي صلى الله عليه وسلم بمن كان به جرح أن لا يستقيد حتى تبرأ جرحه، فالجرح على ما بلغ، وما كان من شلل أو عرج فلا قود فيه فهو عقل، ومن استقاد جرحا فأصيب المستقاد منه فعقل ما نقص من جرح صاحبه له. وقضى أن الولاء لمن أعتق."عب".
٤٠٢١٠۔۔۔ عکرمہ سے روایت ہے فرمایا : ایک شخص نے ایک شخص کو سینگ سے زخمی کیا، تو وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور کہنے لگا : مجھے بدلہ دلوایئے آپ نے فرمایا : رہنے دویہاں تک کہ تم تندرست ہوجاؤ (لیکن) اس نے دویاتین مرتبہ یہی تکرار کی اور نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) فرما رہے تھے تندرست ہونے تک رہنے دو ، پھر آپ نے اسے بدلہ دلوایا، بعد میں بدلہ لینے والا لنگڑا ہوگیا، دوبارہ وہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں حاضر ہو کر کہنے لگا : میرا شریک ٹھیک ہوگیا اور میں لنگڑا ہوگیا، تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں نے تمہیں حکم نہیں دیا تھا کہ ٹھیک ہونے تک بدلہ نہ طلب کرو (لیکن) تم نے میری نافرمانی کی تو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دور کیا اور تمہاری لنگڑاہٹ برباد کردی، پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا کہ جس کے زخم ہوں وہ اپنے زخم ٹھیک ہونے تک بدلہ طلب نہ کرے۔ زخم جس مقدار کو پہنچے اس کے مطابق معاملہ ہوگا، اور عضو کی بےکارگی یالنگڑاہٹ تو اس میں بدلہ نہیں بلکہ اس میں تاوان ہے، اور جس نے کسی زخم کا بدلہ طلب کیا پھر جس سے بدلہ طلب کیا گیا اسے نقصان پہنچاتو اس کے شریک کے زخم سے جتنا نقصان ہوا اس کا تاوان دیناپڑے گا اور آپ نے یہ فیصلہ کیا کہ حق ولاء آزاد کرنے والے کو ہے۔ رواہ عبدالرزاق