40223- عن الحسن قال: كان رجل من الأنصار يقال له سوادة بن عمرو يتخلق كأنه عرجون وكان النبي صلى الله عليه وسلم إذا رآه نغض له فجاء يوما وهو متخلق فأهوى له النبي صلى الله عليه وسلم بعود كان في يده فجرحه فقال له: القصاص يا رسول الله! فأعطاه العود، وكان على النبي صلى الله عليه وسلم قميصان فجعل يرفعهما، فنهره الناس وكف عنه حتى إذا انتهى إلى المكان الذي جرحه رمى بالقضيب وعلقه يقبله وقال: يا نبي الله؟ بل أدعها لك تشفع لي بها يوم القيامة."عب".
٤٠٢٢٣۔۔۔ حسن بصری سے روایت ہے کہ ایک انصاری صحابی تھے جنہیں سوادۃ بن عمرو کہا جاتا تھا وہ ایسے خوشبولگا تے گویا کہ وہ شاخ ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب بھی ان کو دیکھتے تو جھومنے لگتے ایک دن وہ آئے اور اسی طرح خوشبو میں بستہ تھے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جھک کر ایک لکڑی جو آپ کے ہاتھ میں تھی سے انھیں کچوکالگایاجس سے وہ زخمی ہوگئے اور کہنے لگے : یارسول اللہ ! مجھے بدلہ چاہیے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے انھیں وہ لکڑی دی آپ دو قمیضیں پہنے ہوئے تھے آپ انھیں اٹھانے لگے تو لوگوں نے انھیں ڈانٹا تو وہ رک گئے پھر جب اس جگہ پہنچے جہاں انھیں خراش لگی تھی تو چھڑی پھینک کر آپ سے چمٹ گئے اور آپ کو چومنے لگے اور کہنے لگے : اے اللہ کے نبی ! میں اس لیے اپنا بدلہ چھوڑتاہوں کہ آپ اس کی وجہ سے قیامت کے روزمرے لیے شفاعت کریں۔ رواہ عبدالرزاق