40234- عن عمر بن عبد العزيز أن رجلا من أهل الذمة قتل بالشام عمدا وعمر بن الخطاب إذ ذاك بالشام، فلما بلغه ذلك قال عمر: قد وقعتم بأهل الذمة! لأقتلنه به، قال أبو عبيدة بن الجراح: ليس ذلك لك! فصلى ثم دعا أبا عبيدة فقال: لم زعمت لا أقتله به؟ فقال أبو عبيدة: أرأيت لو قتل عبدا له أكنت قاتله به؟ فصمت عمر ثم قضى عليه بالدية بألف دينار تغليظا عليه."ق".
٤٠٢٣٤۔۔۔ عمربن عبدالعزیز سے روایت ہے کہ شام میں ایک ذمی شخص عمدا قتل کردیا گیا حضرت عمر (رض) اس وقت شام میں تھے، آپ کو جب اس کی اطلاع ملی تو آپ نے فرمایا : تم لوگوں نے ذمیوں میں دخل اندازی شروع کردی ہے میں اس کے بدلہ اسے (قاتل کو) قتل کردوں گا۔ ابوعیبدہ بن جراح (رض) نے کہا : آپ کے لیے ایسا کرنا صحیح نہیں ہے، آپ نے نماز پڑھی اور ابوعبیدہ (رض) کو بلایا، آپ نے فرمایا (رح) : تم نے کیسے گمان کیا کہ میں اسے اس کے بدلہ قتل نہیں کروں گا ؟ تو ابوعیبدہ (رض) نے فرمایا : دیکھیں اگر وہ اپنے غلام کو قتل کردیتا تو بھی آپ اسے قتل کرتے ؟ تو آپ خاموش ہوگئے پھر اس شخص پر سختی کے لیے ایک ہزار دینار دیت دینے کا فیصلہ کیا۔ رواہ البیھقی