hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 40250

.

كنز العمال

40250
Kanz al-Ummal
40237- عن النزال بن سبرة أن رجلا من المسلمين قتل رجلا من أهل الحيرة نصرانيا عمدا، فكتب في ذلك إلى عمر فكتب أن: أقيدوه فيه! فدفع إليه فكان يقال له: اقتله! فيقول: حتى يجئ الغيظ، حتى يجئ الغضب، فبينما هم كذلك إذ جاء كتاب من عند عمر أن: لا تقتلوه، فأنه لا يقتل مؤمن بكافر، وليعط الدية."ابن جرير".
٤٠٢٣٧۔۔۔ نزال سبرہ سے روایت ہے کہ ایک مسلمان نے اہل حیرہ کے کسی نصرانی کو عمدا قتل کردیاتو اس کے متعلق حضرت عمرکولکھا گیا، آپ نے جو ابالکھا : کہ اسے قصاص میں دے دو ، تو وہ شخص ان کے حوالہ کردیا گیا، تو وارث سے کہا گیا : اسے قتل کرو، تو کہنے لگا : جب غصہ آئے، یہاں تک کہ جب غضب بھڑکے گا، وہ لوگ اسی شش وپنج میں تھے کہ حضرت عمرکا خط آیا کہ اسے قتل نہ کرنا کیونکہ کافر کے بدلہ میں کسی ایماندار کو قتل نہیں کیا جائے گا البتہ دیت ادا کی جائے۔ رواہ ابن جریر