40258- عن عبد الله بن مغفل قال: إني لممن رفع أغصان الشجرة عن وجه رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو يخطب فقال: "لولا أن الكلاب أمة من الأمم لأمرت بقتلها، ولكن اقتلوا منها كل أسود بهيم، وما من أهل بيت يرتبطون كلبا إلا نقص من أجورهم كل يوم قيراط، إلا كلب صيد أو كلب حرث أو كلب غنم"."حم، ت وقال: حسن؛ ن، وابن النجار".
٤٠٢٥٨۔۔۔ عبداللہ بن مغفل (رض) سے روایت ہے کہ میں ان لوگوں میں سے ہوں جو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے چہرہ انور سے خطاب کے وقت درخت کی شاخیں ہٹاتے تھے، آپ نے فرمایا : گرکتے ایک مستقل مخلوق نہ ہوتے تو میں انھیں قتل کرنے کا حکم دے دیتا، البتہ ان میں سے ہر سیاہ کالے کتے کو مارڈالو، جو گھروالے بھی تین کتوں کے علاوہ کوئی کتاباندہ کر رکھتے ہیں تو ان کے اجر وثواب سے روزانہ ایک قیراط کم ہوجاتا ہے ہاں، شکار، کھیت اور بکریوں کا کتامستثنیٰ ہے۔ مسند احمد، ترمذی وقال نسائی، وابن النجار