40266- وعنه دخلت على رسول الله صلى الله عليه وسلم وهو نائم أو يوحي إليه وإذا حية في جانب البيت، فكرهت أن أقتلها فأوقظه، فاضطجعت بينه وبين الحية فإذا كان شيء كان بي دونه، فاستيقظ وهو يتلو هذه الآية {إنما وليكم الله ورسوله والذين آمنوا الذين يقيمون الصلوة} فقال: الحمد لله! فرآني إلى جنبه فقال: "ما أضجعك هنا"؟ قلت: لمكان هذه الحية، قال: "قم إليها فاقتلها"، فقتلتها! ثم أخذ بيدي فقال: "يا أبا رافع! سيكون بعدي قوم يقاتلون عليا، حقا على الله جهادهم، فمن لم يستطع جهادهم بيده فبلسانه، فمن لم يستطع بلسانه فبقلبه، ليس وراء ذلك شيء". "طب وابن مردويه وأبو نعيم؛ وفيه علي بن هاشم بن البريد، روى له إلا أنه غال في التشيع وله مناكير".
٤٠٢٦٦۔۔۔ انہی سے روایت ہے کہ میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور آپ اس وقت سو رہے تھے یا آپ پر وحی نازل ہورہی تھی، کہ گھر کے کونے میں ایک سانپ نظر پڑا مجھے اچھا نہ لگا کہ اسے ماروں اور آپ کو بیدار کروں، چنانچہ میں آپ کے اور سانپ کے درمیان سوگیا، پس ایک چیز تھی جو مرے ساتھ تھی اور آپ سے ورے تھی، پھر آپ بیدار ہوگئے اور آپ یہ آیت تلاوت فرما رہے تھے، تمہارا دوست تو اللہ تعالیٰ اور اس کا رسول اور وہ ایمان والے ہیں جو نماز قائم کرتے ہیں، آیت، پھر آپ نے فرمایا : الحمدللہ، مجھے اپنے پاس دیکھ کر فرمایا : یہاں کس وجہ سے لیٹے ہو ؟ میں نے عرض کیا : اس سانپ کی وجہ سے، آپ نے فرمایا : اٹھو اور اسے مارڈالو، چنانچہ میں فورا اٹھا اور اسے مارڈالا، پھر آپ نے مراہاتھ پکڑا اور فرمایا : ابورافع ! مرے بعد ایک قوم ہوگی جو علی (رض) سے جنگ کرے گی، اللہ تعالیٰ پر ان کا جہاد ضروری ہے، (یعنی اللہ تعالیٰ کی خاطران سے لڑنا ضروری ہے) پس جو کوئی اپنے ہاتھ سے ان کے ساتھ جہاد نہ کرسکے وہ اپنی زبان سے کرے اور جو اپنی زبان سے نہ کرسکے وہ اپنے دل سے براجانے، اس کے بعد کوئی درجہ نہیں۔ طبرانی وابن مردویہ، ابونعیم اس روایت میں علی بن ہاشم بن ابرید ایک شخص ہے جس کی روایتیں منقول تو ہیں لیکن وہ غالی شیعہ تھا اور اس کی منکر روایات ہیں۔