40288- عن عكرمة قال: قضى عمر بن الخطاب في الجراح التي لم يقض النبي صلى الله عليه وسلم فيها ولا أبو بكر، فقضى في الموضحة التي تكون في جسد الإنسان وليست في الرأس أن كل عظم له نذر مسمى ففي موضحته نصف عشر نذره ما كان، فإذا كانت موضحة في اليد فنصف عشر نذرها ما لم يكن في الأصابع، فإن كانت موضحة في الإصبع فهي نصف عشر نذر الإصبع، فما كان فوق الأصابع في الكف فنذرها مثل موضحة الذراع والعضد، وفي الرجل مثل ما في اليد، وما كانت من منقولة تنقل عظامها في الذراع أو العضد أو الساق أو الفخذ فهي نصف منقولة الرأس، وقضى في الأنامل كل أنملة بثلاث قلائص وثلث قلوص، وقضى في الظفر إذا عور وفسد بقلوص، وقضى بالدية على أهل القرى اثني عشر ألف درهم؛ وقال: إني أرى الزمان يختلف وأخشى عليكم الحكام بعدي أن يصاب الرجل المسلم وتذهب ديته باطلا أو تدفع ديته بغير حق فيحمل على أقوام مسلمين فيجتاحهم، فليس على أهل العين زيادة في تغليظ عقل في الشهر الحرام ولا في الحرم، وعقل أهل القرى تغليظ كله لا زيادة على اثني عشر ألفا، وقضى في المرأة إذا غلبت على نفسها فافتضت وذهبت عذرتها بثلث ديتها ولا حد عليها، وقضى في المجوسي بثمانمائة درهم وقال: إنما هو عبد من أهل الكتاب فتكون ديته مثل ديتهم."عب" "
٤٠٢٨٨۔۔۔ عکرمہ سے روایت ہے فرمایا : جن زخموں کے بارے میں نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اور ابوبکر (رض) نے کوئی فیصلہ نہیں فرمایا، ان کے بارے میں حضرت عمربن خطاب (رض) نے فیصلہ فرمایا ہے۔ چنانچہ جسم انسانی میں وہ زخم جس سے ہڈی ظاہر ہوجائے اور وہ زخم سر میں نہ لگاہو، ہر ہڈی کے زخم کا علیحدہ تاوان مقررہوتو اس کے زخم میں، اس کے تاوان کا بیسواں حصہ ہے۔ جب ایسازخم جس سے ہڈی ظاہر ہوجاتی ہو ہاتھ میں ہو، تو اگر وہ زخم انگلیوں تک نہیں پہنچاتو اس کے تاوان کا بیسواں حصہ ہوگا اور اگر وہ زخم انگلی میں ہو تو انگلی کے زخم کے تاوان کا بیسواں حصہ ہے۔ اور جو زخم انگلیوں سے اوپر ہتھیلی میں ہو تو اس کا تاوان باز واورکندھے کے گہرے زخم کی طرح ہے اور پاؤں میں ہاتھ کی طرح ہے اور جس زخم سے ہڈی ٹل جائے بازو کی کندھے، پنڈلی یاران کی تو سر کی ہڈی ٹل جانے کے تاوان کا نصف ہے اور انگلی کے پوروں کا فیصلہ بھی فرمایا، ہر پورے میں تین اونٹنیاں اور ایک اونٹنی کی قیمت کا تہائی حصہ، اور ناخن کے بارے میں جب وہ سراخدار اور خراب ہوجائے ایک اونٹنی کا فیصلہ فرمایا اور گاؤں والوں پر بارہ ہزاردرہم دیت کا فیصلہ فرمایا، اور فرمایا : میں دیکھتاہوں کہ زمانہ بدل رہا ہے اور مجھے اپنے بعد تمہارے حکمرانوں کا در ہے کہ مسلمان آدمی کو تکلیف پہنچائی جائے اور اس کی دیت فضول میں چلی جائے یاناحق اس کی دیت ختم کردی جائے اور ایسے مسلمان اقوام پر واجب کی جائے جو انھیں ہلاکت میں مبتلاکردے، لہٰذا سونے چاندی والوں پر حرمت کے اور بغیر حرمت کے مہینوں میں دیت کی شدت میں کوئی زیادتی نہیں، اور گاؤں والوں کی دیت جتنی بھی سخت ہو بارہ ہزار درہم سے بڑھ کر نہیں اور عورت کے بارے میں فیصلہ فرمایا جب وہ اپنے آپ پر غالب آجائے اور وہ اپنا پردہ بکارت پھاڑ کر کنوارپن کھودے، اس کی دیت کا تہائی حصہ ہے اور اس پر حد نہیں، اور مجوسی کے بارے میں آٹھ سو درہم کا فیصلہ فرمایا اور ارشاد فرمایا : وہ تو اہل کتاب میں کا غلام ہے تو اس کی دیت ان کی دیت جیسی ہوگی۔ رواہ عبدالرزاق