40325- عن موسى بن علي بن رباح قال: أبي يقول إن أعمى كان ينشد في الموسم في خلافة عمر بن الخطاب وهو يقول: يا أيها الناس لقيت منكرا ... هل يعقل الأعمى الصحيح المبصرا
خرا معا كلاهما تكسرا ...وذلك أن أعمى كان يقوده بصير فوقعا في بئر فوقع الأعمى على البصير فمات البصير فقضى عمر بعقل البصير على الأعمى."ق".
٤٠٣٢٥۔۔۔ موسیٰ بن علی بن رباح سے روایت ہے فرماتے ہیں : میرے والد فرمایا کرتے تھے کہ ایک نابینا حضرت عمر (رض) کی خلافت میں حج کے زمانہ میں یہ اشعارپڑھ رہا تھا۔لوگو ! میں نے ایک عجیب معاملہ دیکھا، کیا اندھاصحیح بینا شخص کی دیت بن سکتا ہے۔ دونوں اکٹھے کرے اور ٹوٹ گئے۔ اور اس کا قصہ یہ ہوا کہ ایک اندھا شخص جس کا ایک بینا آدمی ہاتھ پکڑ کرلے جارہا تھا اچانک دونوں کنوئیں میں جاگرے اندھا بینا پر جاکرا جس سے وہ بینامرگیا تو حضرت عمر (رض) نے نابینے سے بینا کی دیت کا فیصلہ فرمایا۔ رواہ البیہقی