hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 40395

.

كنز العمال

40395
Kanz al-Ummal
40382- "من مسند جارية بن ظفر" عن نمر أن ابن جارية عن أبيه جارية أنه كان بينه وبين قوم قتال في مسرح غنم فقطعوا يده فاختصموا إلى النبي صلى الله عليه وسلم، وإن النبي صلى الله عليه وسلم سأل المقطوع أن يهب له يده، فقال المقطوع: يا رسول الله! إنها يميني، قال "خذ ديتها بورك لك فيها"! فقال: يا رسول الله! ما ترى في غلام من بني العنبر خماسي أو سداسي فأرعيته لا تكثر به على القوم ألم ألتبس به؟ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "أرى أن تعتقه وأن تنحله فتحسن نحله، فإن مات ورثته، وإن مت لم يرثك"."أبو نعيم".
٤٠٣٨٢۔۔۔ نمر سے وہ ابن جاریہ سے وہ اپنے والد سے روایت کرتے ہیں کہ ان کے اور ایک قوم کے درمیان لڑائی ہوئی، اور لڑائی کی وجہ بکریوں کا باڑہ تھا، تو انھوں نے ان کا ہاتھ کاٹ دیا حضرت نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس فیصلہ کرانے آئے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے اس شخص سے کہا جس کا ہاتھ کاٹا گیا تھا کہ وہ اپنا ہاتھ اسے دے دے تو جس کا ہاتھ کٹا تھا کہنے لگا : یارسول اللہ ! وہ میرا داہناہاتھ تھا آپ نے فرمایا اس کی دیت لے لواس میں تم برکت پاؤگے، وہ کہنے لگا : یارسول اللہ ! نبی عنبر کے اس غلام کے بارے میں آپ کی کیا رائے جس کی پانچ یاچھ سال عمر ہے جسے میں نے بکریاں چرانے کو رکھا اس کی وجہ سے قوم کونہ بڑھائی کیا میں اسے ملانالوں ؟ تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : میری رائے ہے کہ تم اسے آزاد کردو اور اس پر مہربانی کرو اور اچھا سلوک کروا گروہ مرگیا تو تم اس کے وارث ہوگے اور اگر تم مرگئے تو وہ تمہاراوارث نہیں ہوگا۔ ابونعیم