40403- عن ربيعة قال: سألت ابن المسيب: كم في إصبع من أصابع المرأة؟ قال: عشر من الإبل، قلت: في إصبعين؟ قال
عشرون، قلت: فثلاث؟ قال: ثلاثون، قلت: فأربع؟ قال: عشرون، قلت: حين عظم جرحها واشتدت بليتها نقص عقلها؟ قال: أعرابي أنت؟ قلت: بل عالم متبين أو جاهل متعلم، قال: السنة."عب".
٤٠٤٠٣۔۔۔ ربیعۃ سے روایت ہے فرمایا : میں نے ابن المسیب سے پوچھا، عورت کی ایک انگلی میں کیا دیت ہے ؟ فرمایا : دس اونٹ میں نے کہا : دوانگلیوں کی ؟ فرمایا : بیس اونٹ ، میں نے کہا : تین کی ؟ فرمایا : تیس اونٹ، میں نے کہا : چار کی ؟ فرمایا : بیس، میں نے کہا : جب اس کا زخم بڑھا اور مصیبت زیادہ ہوئی تو اس کی دیت کم ہوگئی کیوں ؟ فرمایا : کیا تم دیہاتی ہو ؟ میں نے کہا : نہیں میں وضاحب طلب کرنے والا عالم یاسیکھنے والا ناواقف ہوں، فرمایا : سنت کی وجہ سے۔ پس میں خاموش ہوگیا کہ رسول اکرم کے فرمان کے سامنے عقل نارسا ہے) ۔ رواہ عبدالرزاق