hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 40429

.

كنز العمال

40429
Kanz al-Ummal
40416-"مسند أسامة بن عمير" كان فينا رجل يقال له حمل بن مالك له امرأتان: إحداهما هذلية، والأخرى عامرية، فضربت الهذلية بطن العامرية بعمود خباء أوفسطاط فألقت جنينا ميتا، فانطلق بالضاربة إلى النبي صلى الله عليه وسلم معها أخ لها يقال له عمران بن عويمر، فلما قصوا على رسول الله صلى الله عليه وسلم القصة قال: "دوه"، قال عمران: يا نبي الله! أندي ما لا أكل، ولا شرب ولا صاح فاستهل، مثل هذا يطل! فقال النبي صلى الله عليه وسلم، "دعني من رجز الأعراب، فيه غرة عبد أو أمة أو خمس مائة أو فرس أو عشرون ومائة شاة"، فقال: يا نبي الله! إن لها ابنين هما سادة الحي وهم أحق أن يعقلوا على أمهم، قال: "أنت أحق أن تعقل عن أختك من ولديها"، قال: ما لي شيء أعقل فيه، قال: "يا حمل بن مالك" وهو يومئذ على صدقات هذيل وهو زوج المرأتين وأبو الجنين المقتول: "اقبض من تحت يدك من صدقات هذيل عشرين ومائة شاة"، ففعل."طب".
٤٠٤١٦۔۔۔ مسنداسامہ عمیرہم میں ایک شخص تھا جس کا نام حمل بن مالک تھا جس کی دوبیویاں تھیں، ایک کا تعلق قبیلہ ھذیل سے تھا اور دوسری قبیلہ عامری سے تھی توہذیلیہ نے عامریہ کے پیٹ پر خیمہ یاکیمپ کا کھونٹا ماراجس سے اس کے پیٹ کا بچہ مردہ حالت میں پڑاتومارنے والی کے ساتھ اس کا بھائی اسے لے کر جس کا نام عمران بن عویمر تھا نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا، جب نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے سامنے ساراقصہ بیان کیا آپ نے فرمایا : اس بچہ کی دیت دو ، تو عمران نے کہا : یارسول اللہ ! کیا ہم اس کی دیت دیں جس نے نہ کھایانہ پیانہ چیخاپس پیدا ہوا اس جیسارائیگاں جاتا ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : رہنے دو مجھے دیہاتیوں کے اشعاروالی گفتگونہ سناؤ اس میں ایک غلام یا لونڈی یاپانچ سویا ایک کھوڑایا ایک سوبیس بکریاں (قابل ادا) ہیں۔ تو وہ کہنے لگا : یا نبی اللہ ! اس کے دوبیٹے ہیں جو قبیلہ کے سردار ہیں وہ اپنی ماں کی دیت دینے کے زیادہ حق دار ہیں، آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم اپنی بہن کی دیت دینے کے اس کے دونوں بیٹوں سے زیادہ حقدار ہو تو وہ بولا : مجھے اس میں دیت دینے کی کوئی چیز نہیں ملتی تو آپ نے فرمایا : حمل بن مالک ! وہ اس وقت ھذیل کی زکوۃ لینے پر مامور تھے وہی دونوں عورتوں کے خاوند اور مقتول بچہ کے باپ تھے، ھذیل کی زکوۃ سے اپنے ہاتھ میں ایک سوبیس ١٢٠ بکریاں کرلینا۔ چنانچہ انھوں نے ایسا ہی کیا۔ رواہ الطبرانی