40433- "مسند الصديق" عن المهاجر بن أبي أمية قال: كتب إلي أبو بكر الصديق أن: ابعث إلي قيس بن مكشوج في وثاق، فأحلفه خمسين يمينا عند منبر النبي صلى الله عليه وسلم ما قتل ذاذويه."الشافعي، ق".
٤٠٤٣٣۔۔۔ مسند الصدیق، مہاجربن ابی امیہ سے روایت ہے فرماتے ہیں حضرت ابوبکر (رض) نے میری طرف لکھا : قیس بن مکشوج کو بیڑیاں پہنا کر میرے پاس بھیج دو میں اس سے منبر رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس پچاس قسمیں لوں گا کہ اس نے ان دونوں کو قتل نہیں کیا۔ الشافعی، بیہقی
قسامہ قسم ہے جس کی حقیقت یہ ہے کہ مقتول کے ورثاء جب اسے کسی قوم میں مردہ پائیں اور قاتل کا بھی پتہ نہ ہو تو پچاس ورثاء اپنے آدمی کے خون کے مطالبہ کی قسم کھائیں اور اگر وہ پچاس آدمی نہ ہوں تو موجودہ افراد پچاس قسمیں کھائیں جن میں بچہ عورت، پاگل، غلام نہ ہو یا جن پر قتل کی تہمت لگی وہ قتل کی نغی کی قسم کھائیں، جب دعویدارقسم کھالیں تو دیت کے مستحق ہوجائیں گے اور اگر وہ لوگ قسم کھائیں جن پر قتل کی تہمت تھی تو ورثاء دیت کے حق دار نہیں ہوسکتے۔ النایہ فی غریب الحدیث