40497- عن الحكم بن أبي العاص قال: قال لي عمر بن الخطاب: هل قبلكم متجر فإن عندي مال يتيم قد كادت الزكاة قد تأتي عليه؟ قلت: نعم، فدفع إلي عشرة آلاف، فغبت عنه ما شاء الله ثم رجعت إليه فقال: ما فعل المال؟ قلت: هو ذا قد بلغ مائة ألف، قال: رد علينا مالنا لا حاجة لنا به."ش، ق ورواه الشافعي، ق من طرق عن عمر".
٤٠٤٩٧۔۔۔ حکم بن ابی العاص سے روایت ہے فرماتے ہیں : حضرت عمر (رض) نے مجھ سے کہا : کیا تمہاری طرف کوئی منڈی ہے کیونکہ میرے پاس ایک یتیم کا مال ہے جسے زکوۃ ہلاک کرنے والی ہے ؟ میں نے کہا : جی ہاں، تو انھوں نے مجھے دس ہزار دیئے پھر جتنا اللہ تعالیٰ نے چاہا میں ان سے غائب رہا پھر ان کے پاس واپس آیا تو انھوں نے فرمایا : مال کا کیا ہوا ؟ میں نے کہا : مال یہ ہے اور وہ ایک لاکھ تک پہنچ گیا ہے آپ نے فرمایا : ہمیں صرف ہمارا مال دس ہزار واپس کردوہ میں اس نفع کی ضرورت نہیں۔ ابن شیبۃ، بیہقی، رواہ الشافعی، بیہقی من طرق عن عمر