4053 - عن أبي بن كعب قال "قال رسول الله صلى الله عليه وسلم: ألا أعلمك سورة ما أنزل في التوراة ولا في الإنجيل ولا في الزبور ولا في القرآن مثلها؟ قلت: بلى، قال: إني لأرجو أن لا تخرج من ذلك الباب حتى تعلمها، فقام رسول الله صلى الله عليه وسلم، وقمت معه فجعل يحدثني ويدي في يده فجعلت أتباطأ كراهة أن يخرج قبل أن يخبرني بها فلما دنوت من الباب قلت: يا رسول الله السورة التي وعدتني، فقال كيف تقرأ إذا قمت إلى الصلاة فقرأت فاتحة الكتاب، فقال: هي هي، وهي السبع المثاني التي قال الله تعالى: {وَلَقَدْ آتَيْنَاكَ سَبْعاً مِنَ الْمَثَانِي وَالْقُرْآنَ الْعَظِيمَ} الذي أعطيت ". "ق في كتاب وجوب القراءة في الصلاة".
4053: ابی بن کعب (رض) سے مروی ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : کیا میں تجھے ایسی سورت نہ سکھاؤں جو توراۃ میں نہ انجیل میں، نہ زبور میں اور نہ ہی قرآن میں نازل کی گئی ؟ میں نے عرض کیا : ضرور ! فرمایا میری خواہش ہے کہ تم اس (سامنے غالبا مسجد نبوی کے) دروازے سے نہ نکلو حتی کہ وہ سورت سیکھ لو۔ پھر نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کھڑے ہوگئے اور میں بھی آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے ساتھ کھڑا ہوگیا اور آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) مجھ سے بات کرتے رہے جبکہ میرا ہاتھ آپ کے دس مبارک میں تھا۔ میں جان بوجھ کر آہستہ آہستہ چل رہا تھا کہ کہیں آپ مجھے وہ سورت بتانے سے پہلے دروازے سے نکل نہ جائیں۔ جب میں دروازے کے قریب پہنچ گیا تو میں نے عرض کیا : یا رسول اللہ ! وہ سورت جس کا آپ نے مجھ سے وعدہ کیا تھا ؟ آپ (رض) نے فرمایا : جب تم نماز کے لیے کھڑے ہوتے ہو تو کیا پڑھتے ہو ؟ میں نے سورة فاتحہ پڑھ کر سنا دی۔ آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ولقد اتینا سبعا من المثانی والقران العظیم۔ اور ہم نے آپ کو سات بار بار پڑھنے والی آیات اور قرآن عظیم عطا کیا۔ یہ مجھے ہی عطا کی گئی۔ (بخاری و مسلم فی کتاب وجوب القرآن فی الصلاۃ)