40527- عن عمرو بن سفيان بن عبد الله بن ربيعة وعاصم بن سفيان بن عبد الله بن ربيعة الثقفي أن سفيان بن عبد الله وجد عيبة فأتى بها عمر فقال: عرفها سنة، فإن عرفت فذلك، وإلا فهي لك، فلم تعرف فأتى بها العام القابل بالموسم فذكرها له، فقال: عرفها سنة، فإن لم تعرف فهي لك، ففعل فلم تعرف، قال عمر: فهي لك فإن رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرنا بذلك، قال: لا حاجة لي بها، فقبضها عمر فجعلها في بيت المال."المحاملي، ورواه عب عن مجاهد نحوه بدون ذكر المرفوع".
٤٠٥٢٧۔۔۔ عمروبن سفیان بن عبداللہ بن ربیعہ اور عاصم بن سفیان بن عبداللہ بن ربیعہ ثقفی سے روایت ہے کہ سفیان بن عبداللہ کو چمڑے کی ایک زنبیل ملی تو وہ اسے حضرت عمر (رض) کے پاس لے کر آئے آپ نے فرمایا : سال بھر اس کا اعلان کرو، اگر تم نے اس کا اعلان کیا تو بہترورنہ وہ تمہاری ہے تو اس کا مالک نہیں پایا گیا تو وہ آئندہ سال زمانہ حج میں ان کے پاس لے کر آئے اور اس کا تذکرہ کیا آپ نے فرمایا : ایک سال اور اس کا اعلان کرو پھر اس کا مالک نہ ملے تو وہ تمہاری ہے تو انھوں نے ایساہی کیا تو اس کا پتہ نہ چلا تو حضرت عمر (رض) نے فرمایا وہ تمہاری ہے کیونکہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اسی کا حکم دیا ہے انھوں نے کہا : مجھے اس کی ضرورت نہیں تو حضرت عمر (رض) نے اسے لے کر بیت المال میں جمع کرلیا۔ المحاملی، ورواہ عبدالرزاق عن مجاھد نحوہ، بدون ذکرالمرفوع