40545-"أيضا" عن بلال بن يحيى العبسي عن علي أنه التقط دينارا فاشترى به دقيقا، فعرفه صاحب الدقيق، فرد عليه الدينار، فأخذه فقطع منه قيراطين فاشترى به لحما."د ، ق وضعفه؛ زاد ش: ثم أتى به فاطمة فقال: اصنعي لنا طعاما، ثم انطلق إلى النبي صلى الله عليه وسلم فدعاه، فأتاه ومن معه، فأتاهم بجفنة، فلما رآها النبي صلى الله عليه وسلم أنكرها فقال: "ما هذا؟ " فأخبره فقال: "القطة القطة؟ إلى القيراطان، ضعوا أيديكم، بسم الله".
٤٠٥٤٥۔۔۔ اسی طرح بلال بن یحییٰ العبسی حضرت علی (رض) سے روایت کرتے ہیں : کہ انھیں ایک دینار ملاجس سے آٹاخرلیا، توآٹے والے نے آپ کو پہچان لیا انھیں دینارواپس کردیا، آپ نے وہ دینارلیا اور اس سے دوقیراط بنالئے اور اس سے گوشت خریدلیا۔ ابوداؤد، بیہقی وضعفہ، زادابن ابی شیبۃ ، پھر وہ حضرت فاطمہ (رض) کے پاس لائے اور فرمایا : ہمارے لیے کھاناپکاؤ اس کے بعد نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس گئے اور انھیں بلایاتو آپ اور جو لوگ آپ کے ساتھ آگئے حضرت علی ان کے پاس ایک بڑا پیالہ لائے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے جب اسے دیکھا تو آپ ہچکچائے، پھر فرمایا : یہ کیا ہے، تو انھوں نے آپ کو بتایا، آپ نے فرمایا : کیا ایک ایک لقطہ دوقیراط بن گیا، اپنے ہاتھ رکھو بسم اللہ۔ (یعنی کھاؤ) ۔