40554- عن يحيى بن سعد الأنصاري مولى المنبعث عن أصحاب رسول الله صلى الله عليه وسلم أن رجلا جاء إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال: يا رسول الله! كيف ترى في اللقطة؟ فقال: اعرف عددها ووكاءها ثم عرفها سنة، فإن جاء صاحبها وإلا فاستنفقها يكون عندك وضيعة؛ قال: فضالة الغنم! قال: خذها فإنما هي لك أو لأخيك أو للذئب وتعرفها، قال: فضالة الإبل! قال: دعها فإن معها سقاؤها وحذاءها، ترد الماء وتأكل الشجر حتى يقدم صاحبها."كر".
40554 ۔۔ حضرت یحییٰ بن سعید انصاری مولی المنبعث اصحاب رسول اللہ سے نقل کرتے ہیں ایک شخص رسول اللہ کی خدمت میں آیا اور پوچھا کہ یا رسول اللہ آپ لقطہ کے بارے میں ارشاد فرماتے ہیں ، آپ نے فرمایا ایک سال تک اس کے عدد بندھن کا اعلان کرو اگر اس کا مالک آجائے تو ٹھیک ورنہ اس کو خرچ کردو یہ آپ کے پاس بطور امانت ہوگا۔ پوچھا کہ اگر گمشدہ بکری ہو تو کیا حکم ہے فرمایا آپ کے لیے یا آپ کے ساتھ کے لیے ہے یا بھیڑیے کے لیے پھر اعلان کرو۔ بعدازاں گمشدہ اونٹ کے متعلق بھی یہی سوال کیا تو آپ نے فرمایا کہ اس کو چھوڑ دو کیونکہ اس کے ساتھ اس کا کھانا اور پینا موجود ہے۔ اور اس کے جوتے بھی اس کے ساتھ ہیں وہ پانی کے پاس جاتا ہے اور درختوں سے کھاتا ہے یہاں تک کہ اس کا مالک آجائے۔ رواہ ابن عساکر۔