40560- "أيضا" عن عطاء قال: نبئت أن عليا قال: مكثنا أياما ليس عندنا شيء ولا عند النبي صلى الله عليه وسلم، فخرجت فإذا أنا بدينار مطروح على الطريق، فمكثت هنيهة أؤامر نفسي في أخذه أو تركه، ثم أخذته لما بنا من الجهد، فأتيت به الضفاطين "فاشتريت به دقيقا، ثم أتيت به فاطمة فقلت: اعجني واخبزي، فجعلت تعجن وإن قصتها لتضرب حرف الجفنة من الجهد الذي بها، ثم خبزت، فأتيت النبي صلى الله عليه وسلم فأخبرته، فقال: كلوه فإنه رزق رزقكموه الله عز وجل."هناد".
٤٠٥٦٠۔۔۔ اسی طرح عطاء سے روایت ہے فرمایا : مجھے بتایا گیا کہ حضرت علی (رض) نے فرمایا کئی دنوں سے ہمارے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس کھانے کی کوئی چیز نہ تھی میں باہر نکلا تو مجھے راستہ میں پڑا ہوا ایک دینار ملا تھوڑی دیر میں اپنے دل میں اسے اٹھانے یا چھوڑنے کی کشمکش میں رہا پھر اپنی مشقت کی وجہ سے میں نے اسے اٹھالیا، اس کے بعد میں بنجارے کے پاس آیا اور اس سے آٹاخریدا اورفاطمہ (رض) کے پاس لاکرکہا : یہ آٹا گوندھ کر اس کی روٹی بنادوتو وہ آٹاگوندھنے لگیں اور فاقہ کی وجہ سے ان کی پیشانی کے بال صحنک کے ساتھ لگ رہے تھے۔ پھر انھوں نے روٹیاں پکائیں میں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور انھیں بتایا، آپ نے فرمایا : کھالووہ اللہ کا رزق تھا جو اللہ تعالیٰ نے تمہیں دیا ہے۔ ھناد