40595- عن معمر قال، اختلف النخعي والشعبي في ميراث ابن الملاعنة، فبعثوا إلى المدينة رسولا يسأل عن ذلك، فرجع فحدثهم عن أهل المدينة أن المرأة التي لاعنت زمن النبي صلى الله عليه وسلم زوجها فرق النبي صلى الله عليه وسلم بينهما، فتزوجت فولدت أولادا، ثم توفي ابنها الذي لاعنت عليه، فورثت أمه منه السدس، وورثت إخوته منها الثلث، وكان ما بقي بين إخوته وأمه على قدر مواريثهم، صار لأمه الثلث ولإخوته الثلثان."عب".
٤٠٥٩٥۔۔۔ معمر سے روایت ہے فرمایا : کہ ابراہیم نخعی اور عامر شعبی رحمھما اللہ کالعان کرنے والی عورت کے بچہ کی میراث میں اختلاف ہوگیا تو انھوں نے مدینہ ایک قاصد روانہ کیا جو اس کے بارے میں پوچھے تو دہ واپس آکران سے مدینہ والوں کی بات کرنے لگا کہ جس عورت نے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے زمانہ میں اپنے خاوند سے لعان کیا تھا آپ نے ان میں تفریق کردی پھر اس عورت نے شادی کرلی اور کئی بچے جنے پر جس بچہ کی بنا پر اس نے لعان کیا تھا فوت ہوگیا تو اس کی ماں اس کے چھٹے حصہ کی وارث ہوئی اور اس کے بھائی اس کی تہائی میراث کے وارث ہوئے اور جو باقی بچاوہ ان کی میراث کے بقدراس کی ماں اور اس کے بھائیوں کے درمیان میں تقسیم ہوا، یوں اس کی ماں کے لیے ایک تہائی اور اس کے بھائیوں کے لیے دوتہائی حصہ قرارپایا۔ رواہ عبدالرزاق