4118 - عن حجر بن قيس المدري، قال: "بت عند علي بن أبي طالب فسمعته وهو يصلي من الليل يقرأ هذه الآية {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تُمْنُونَ أَأَنْتُمْ تَخْلُقُونَهُ أَمْ نَحْنُ الْخَالِقُونَ} قال بل أنت يا رب ثلاثا، ثم قرأ: {أَفَرَأَيْتُمْ مَا تَحْرُثُونَ أَأَنْتُمْ تَزْرَعُونَهُ أَمْ نَحْنُ الزَّارِعُونَ} قال بل أنت يا رب ثلاثا ثم قرأ: {أَفَرَأَيْتُمُ الْمَاءَ الَّذِي تَشْرَبُونَ أَأَنْتُمْ أَنْزَلْتُمُوهُ مِنَ الْمُزْنِ أَمْ نَحْنُ الْمُنْزِلُونَ} قال بل أنت يا رب ثلاثا، ثم قرأ {أَفَرَأَيْتُمُ النَّارَ الَّتِي تُورُونَ أَأَنْتُمْ أَنْشَأْتُمْ شَجَرَتَهَا أَمْ نَحْنُ الْمُنْشِئُونَ} قال بل أنت يا رب ثلاثا". "عب وأبو عبيد في فضائله وابن المنذر ك ق".
4118: حجر بن قیس المدری (رح) سے مروی ہے کہ ایک مرتبہ میں نے حضرت علی بن ابی طالب کرم اللہ وجہہ کے پاس رات گذاری میں نے آپ کو رات کی نماز (تہجد) میں پڑھتے سنا۔ افرایتم ما تمنونء انتم تخلقونہ ام نحن الخالقون۔ (دیکھو تو جس (نطفے) کو تم (عورتوں کے حمل میں) ڈالتے ہو، کیا تم اس ( سے انسان) کو بناتے ہو یا ہم بناتے ہیں۔ یہ آیات پڑھ کر آپ نے تین مرتب فرمایا : بل انتم تزرعونہ ام نحن الزارعون۔ بھلا دیکھو تو کہ جو کچھ تم بوتے ہو، کیا تم اسے اگاتے ہو یا ہم اگاتے ہیں ؟ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا : بل انت یا رب نہیں پروردگار آپ ہی اگاتے ہیں۔ پھر جب آپ نے تین مرتبہ پڑھا : افرایتم الماء الذی تشربونء انتم نحن المنزلون ۔ بھلا دیکھو کہ جو پانی تم پیتے ہو، کیا تم اس کو بادل سے نازل کرتے ہو یا ہم نازل کرتے ہیں۔ پھر آپ نے تین مرتبہ فرمایا : بل انت یا رب نہیں پروردگار ! بلکہ آپ ہی نازل کرتے ہیں۔ پھر جب آپ نے پڑھا : افرایتم النار التی تورون، ء انتم انشاتم شجرتہا ام نحن المنشؤن۔ بھلا دیکھو تو یا رب ! نہیں پروردگار ! آپ ہی پیدا کرتے ہیں (عبدالرزاق، ابو عبید فی فضائلہ، ابن المنذر، مستدرک الحاکم، البیہقی فی السنن)