4144 - "مراسيل عطاء" عن عطاء "أن النبي صلى الله عليه وسلم استمع ليلة أبا بكر، فإذا هو يخافت بالقراءة في صلاته، واستمع عمر فإذا هو يرفع صوته، واستمع بلالا فإذا هو يأخذ من هذه السورة، ومن هذه السورة فقال استمعت إليك يا أبا بكر فإذا أنت تخفض صوتك، قال أخفض صوتي بنجاء ربي، قال: واستمعت إليك يا عمر فإذا أنت ترفع صوتك قال أنفر الشيطان، وأوقظ النائم، وقال واستمعت إليك يا بلال فإذا أنت تأخذ من هذه السورة، ومن هذه السورة، قال أخلط الطيب بالطيب أجمع بعضه إلى بعض، قال كل قد أحسن ". "عب".
4144: (مراسیل عطاء) حضرت عطاء (رح) سے مروی ہے کہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک رات ابوبکر (رض) کو سنا وہ نماز میں پست آواز میں قراءت کر رہے تھے۔ حضرت عمر (رض) کو سنا وہ بلند آواز میں قرآت کر رہے تھے۔ حضرت بلال (رض) کو سنا وہ مختلف سورتوں سے ملا جلا کر پڑھ رہے تھے۔ آپ نے فرمایا : ابے ابوبکر ! میں نے تجھے پڑھتے ہوئے سنا تم پست آواز میں پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : میں اپنے رب سے مناجات کررہا تھا۔ اس لیے پست آواز میں پڑھ رہا تھا۔ آپ نے حضرت عمر (رض) کو فرمایا : اے عمر ! میں نے تم کو سنا تم بلند آواز میں قرآن پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : میں شیطان کو بھگا رہا تھا اور سونے والوں کو جگا رہا تھا۔ پھر آپ نے فرمایا : اے بلال ! میں نے تم کو سنا کبھی اس سورت سے اور کبھی اس سورت سے پڑھ رہے تھے۔ انھوں نے عرض کیا : میں اچھے کو اچھے کے ساتھ ملا رہا تھا۔ تب آپ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہر ایک نے اچھا کیا۔ الجامع لعبد الرزاق۔