4159 - عن الحسن "أن ناسا لقوا عبد الله بن عمرو بمصر، فقالوا نرى أشياء من كتاب الله أمر أن يعمل بها لا يعمل بها، فأردنا أن نلقى أمير المؤمنين في ذلك فقدم وقدموا معه، فلقي عمر، فقال: يا أمير المؤمنين أن ناسا لقوني بمصر، فقالوا إنا نرى أشياء من كتاب الله أمر أن يعمل بها لا يعمل بها فأحبوا أن يلقوك في ذلك، فقال أجمعهم لي فجمعهم له، فأخذ أدناهم رجلا، فقال: أنشدك بالله وبحق الإسلام عليك أقرأت القرآن كله؟ فقال: نعم: قال فهل أحصيته في نفسك؟ قال: لا، قال فهل أحصيته في بصرك؟ قال: لا، قال فهل أحصيته في لفظك هل أحصيته في أثرك؟ ثم تتبعهم حتى أتى على آخرهم، قال: ثكلت عمر أمه، أتكلفونه أن يقيم الناس على كتاب الله؟ قد علم ربنا أنه سيكون لنا سيئات وتلا {إِنْ تَجْتَنِبُوا كَبَائِرَ مَا تُنْهَوْنَ عَنْهُ نُكَفِّرْ عَنْكُمْ سَيِّئَاتِكُمْ وَنُدْخِلْكُمْ مُدْخَلاً كَرِيماً} هل علم أهل المدينة فيم قدمتم؟ قالوا لا قال لو علموا لوعظت بكم. "ابن جرير".
4159: حضرت حسن سے مروی ہے کہ یہ لوگ مصر میں (گورنر) عبداللہ بن عمرو بن العاص (رض) سے ملاقات کرنے گئے۔ انھوں نے کہا : ہم کتاب اللہ کے کچھ احکام دیکھتے ہیں جن پر عمل کرنے کا حکم ہے عمل نہیں کیا جا رہا ہے وہ آپ سے اس بارے میں ملنے آئے ہیں۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : ان سب کو جمع کرکے میرے پاس لاؤ۔ حضرت عبداللہ ان سب کو حضرت عمر کے پاس لے آئے۔ حضرت عمر نے ان میں سب سے ادنی (کمتر) شخص کو آگے کیا اور پوچھا : میں تجھے اللہ کا اور اسلام کے حق کا واسطہ دیتا ہوں، بتا کیا تو نے پورا قرآن پڑھ لیا ہے ؟ اس نے عرض کیا : جی ہاں۔ پوچھا : کیا اس میں کچھ یاد بھی ہے ؟ عرض کیا : نہیں۔ پوچھا : کیا اپنی آنکھ میں کچھ یاد رکھا ؟ (یعنی نگاہوں اور خیالوں میں کچھ یاد ہے ؟ ) عرض کیا نہین۔ فرمایا : اچھا کچھ الفاظ قرآن کے یاد ہیں ؟ عرض کیا نہیں۔ فرمایا : کیا کچھ اثرات قرآن کے محفوظ کیے ہیں۔ عرض کیا : نہیں۔ پھر شروع سے آخر تک سب لوگوں سے آپ نے ہی سوالات کیے۔ لیکن سب سے یہی جواب ملے۔ پھر حضرت عمر (رض) فرمانے لگے۔ عمر کی ماں عمر کو گم کردے۔ کیا تم لوگ (اپنی اس حالت کے باوجود) اپنے امیر کو اس کا مکلف کرتے ہو کہ وہ سب لوگوں کو کتاب اللہ پر جمع ہونے کا مکلف کردے۔ ہمارے رب کو معلوم ہے کہ ہم سے سیئات (چھوٹے) گناہ سرزد ہوجاتے ہیں اسی وجہ سے فرمایا :
ان تجتنبوا کبائر ماتنہون عنہ نکفر عنکم سیاتکم وندخلکم مدخلا کریما۔
اگر ان بڑے گناہوں سے بچو، جن سے تم کو روکا جاتا ہے تو ہم تم سے تمہاری (چھوٹی) برائیاں معاف کردیں گے اور تم کو اچھے ٹھکانے میں داخل کردیں گے۔
پھر پوچھا کیا اہل مدینہ کو علم ہے کہ تم کس بارے میں یہاں آئے ہو ؟ انھوں نے کہا : نہیں۔ فرمایا : اگر ان کو بھی علم ہوجاتا تو تم کو سبق سکھاتا۔ (رواہ ابن جریر)