41637- إذا أتى أحدكم باب حجرته فليسلم، فإنه يرد قرينه الذي معه من الشياطين، فإذا دخلتم حجركم فسلموا يخرج ساكنها من الشياطين، وإذا رحلتم فسموا على أول حلس تضعونه على دوابكم حتى لا يشرككم في مركبها، فإن لم تفعلوا شرككم، وإذا أكلتم فسموا حتى لا يشرككم في طعامكم، فإنكم إن لم تفعلوا شرككم في طعامكم ولا تبيتوا القمامة معكم في حجركم فإنها مقعده، ولا تبيتوا المنديل في بيوتكم فإنها مضجعه، ولا تفرشوا الولايا التي تلي ظهور الدواب ولا تسكنوا بيوتا غير مغلقة، ولا تبيتوا على سطوح غير محوط فإذا سمعتم نباح الكلب أو نهيق الحمار فاستعيذوا بالله، فإنه لا ينهق حمار ولا ينبح كلب حتى يراه."عبد بن حميد - عن جابر" "
٤١٦٣٧۔۔۔ جب کوئی اپنے حجرہ کے دروازہ پر آئے تو سلام کرے جو اس کے ساتھی شیطان کو واپس کردے گا اور جب اپنے حجروں میں آجاؤ تو سلام کرو وہاں رہنے والے شیاطین نکل جائیں گے اور جب سفر کے لیے کوچ کرنے لگو تو پہلا ٹاٹ جو تم اپنی سواری کے جانوروں پر رکھو تو بسم اللہ پڑھو تو وہ سواری میں تمہارے شریک نہ ہوں گے اور اگر تم نے ایسا نہ کیا تو وہ تمہارے ساتھ شریک ہوجائیں گے۔ اور جب کھاؤ توبسم اللہ پڑھ لوتا کہ وہ تمہارے ساتھ کھانے میں شریک نہ ہوں کیونکہ اگر تم نے ایسانہ کیا تو وہ تمہارے کھانے میں شریک ہوجائیں گے رات اپنے حجروں میں کو ڑاکرکٹ نہ رکھو کیونکہ وہ ان کے بیٹھنے کی جگہ ہے اور نہ رات اپنے گھروں میں صافی رکھو اس واسطے کہ وہ ان کا بسیرا ہے اور نہ وہ عرق گیر بچھایا کرو جو تمہاری سواریوں کی پیٹھوں پر ہوتے ہیں ان سے بدبو آتی ہے اور کھلے گھر میں جن کے دروازے نہ ہوں مت رہو اور فصیل کے بغیر چھتوں پر رات نہ گزارو، اور جب کتے کی بھونک سنویاگدھے کا رینکتا تو اللہ تعالیٰ کی پناہ طلب کرو کیونکہ کتا اس وقت بھونکتا اور گدھا اس وقت رینکتا ہے جب اسے شیطان کو دیکھتا ہے۔ عبدبن حمید عن جابر