41707- عن عبد الله بن بسر قال: أهديت للنبي صلى الله عليه وسلم شاة والطعام يومئذ قليل فقال لأهله: "أطبخوا هذه الشاة وانظروا إلى هذا الدقيق فاخبزوه واطبخوا واثردوا عليه"، قال: وكانت للنبي صلى الله عليه وسلم قصعة يقال لها "الغراء" يحملها أربعة رجال، فلما أصبح وسبح الضحى أتى بتلك القصعة والتفوا عليها، فإذا كثر الناس جثا رسول الله صلى الله عليه وسلم فقال أعرابي: ما هذه الجلسة! فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "إن الله جعلني عبدا كريما ولم يجعلني جبارا عنيدا"، ثم قال: "كلوا من حواشيها ودعوا ذروتها يبارك الله فيها، ثم قال: خذوا فكلوا فوالذي نفس محمد بيده! لتفتحن عليكم أرض فارس والروم حتى يكثر الطعام ولا يذكر اسم الله عليه"."أبو بكر في الغيلانيات، كر".
٤١٧٠٧۔۔۔ عبداللہ بن بسر سے روایت ہے کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے لیے کسی نے بکری کا گوشت بدیہ کیا اس وقت کھاناکم ہوتا تھا آپ نے اپنے گھروالوں سے فرمایا : اس بکری کو پکاؤ اور اس آٹے کو دیکھو روٹیاں اس سے پکانا اور اس گوشت کی ثرید بنالینا۔ فرماتے ہیں نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کا ایک بڑا پیالہ تھا جسے، غرائ، کہا جاتا تھا جسے چار آدمی اٹھاتے تھے جب صبح ہوئی اور آپ نے چاشت کی نماز پڑھ لی تو اس برتن کو لایا گیا لوگ اس کے آس پاس جمع ہوگئے جب لوگوں کی تعداد بڑھ گئی رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) گھٹنے بچھاکربیٹھ گئے تو ایک دیہاتی شخص بولا : یہ کیسی نشست ہے ! تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : اللہ تعالیٰ نے مجھے شریف انسان بنایا ہے متکبر اور دشمنی کرنے والا نہیں بنایا، پھر فرمایا : اس کے کناروں سے کھاؤ اس کی اونچائی چھوڑدو اس میں اللہ تعالیٰ برکت دے گا اس کے بعد فرمایا : کھاؤ شروع کرو اللہ اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی جان ہے ! تمہارے لیے روم وفارس کی زمین ضرور فتح ہوگی اور کھانا بکثرت ہوجائے گا لیکن افسوس اس پر اللہ تعالیٰ کا نام غفلت سے نہ لیا جائے گا۔ ابوبکر فی الغیلانیات ابن عساکر