4173 - عن أبي عثمان النهدي عن صبيغ أنه سأل عمر بن الخطاب عن المرسلات والذاريات والنازعات، فقال له عمر: "ألق ما على رأسك فإذا له ضفيرتان، فقال له: وجدتك محلوقا لضربت الذي فيه عيناك، ثم كتب إلى أهل البصرة أن لا تجالسوا صبيغا، قال أبو عثمان: فلو جاء ونحن مائة لتفرقنا عنه". "نصر المقدسي في الحجة كر".
4173: ابی عثمان الہذی سے مروی ہے وہ صبیغ سے روایت کرتے ہیں صبیغ کہتے ہیں کہ انھوں نے حضرت عمر بن خطاب (رض) سے والمرسلات، والذاریات، والنازعات (وغیرہ) کے بارے میں سوال کیا۔ حضرت عمر (رض) نے فرمایا : سر سے کپڑا ہٹاؤ۔ اس نے کپڑا ہٹایا تو دیکھا کہ بال دو رخ سنورے ہوئے ہیں۔ پھر آپ نے فرمایا : اگر تو نجگے سر والا ہوتا تو میں یہ سر ہی اڑا دیتا جس میں تیری دو آنکھیں ہیں۔ پھر آپ (رض) نے اہل بصرہ کو (جہاں صبیغ رہتا تھا) لکھا کہ صبیغ کے ساتھ اٹھنا بیٹھنا بند کردو۔ ابو عثمان (رح) کہتے ہیں۔ اس کے بعد یہ حال تھا کہ اگر ہم سو آدمی جمع ہوتے اور صبیغ آجاتا تو ہم وہاں سے سب جدا ہوجاتے۔ (الحجۃ لنصر المقدسی، ابن عساکر)