41753- عن أبي أيوب قال: نزل رسول الله صلى الله عليه وسلم في بيتنا الأسفل وكنت في الغرفة، فأهريق ماء في الغرفة، فقمت أنا وأم أيوب بقطيفة لنا نتتبع الماء شفقا أن يخلص إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم، فنزلت إلى رسول الله صلى الله عليه وسلم وأنا مشفق، فقلت: يا رسول الله! لا ينبغي أن أكون فوقك، انتقل إلى الغرفة! فأمر رسول الله صلى الله عليه وسلم بمتاعه فنقل، ومتاعه قليل، فقلت: يا رسول الله! كنت ترسل إلي بالطعام فأنظر فإذا رأيت أثر أصابعك وضعت يدي فيه حتى إذا كان هذا الطعام الذي أرسلت به إلي فنظرت فلم أر فيه أثر أصابعك! فقال رسول الله صلى الله عليه وسلم: "أجل، إن فيه بصلا وكرهت أن آكله من أجل الملك الذي يأتيني، وأما أنتم فكلوه"."أبو نعيم، كر".
٤١٧٥٣۔۔۔ حضرت ابوایوب انصاری (رض) سے روایت ہے فرمایا : رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہمارے نچلے مکان میں فروکش ہوئے اور میں کمرہ میں تھا گھڑاٹوٹنے سے گھر میں پانی بہہ پڑاتو میں اور ام ایوب اپنی چادرلے کر پانی کا پیچھا کرنے لگے کہ کہیں رسول (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) تک نہ پہنچ جائے، میں اترکررسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے پاس آیا اور میں خوفزدہ تھا میں نے کہا : یارسول اللہ ! یہ مناسب نہیں کہ میں آپ سے اوپر والی منزل میں رہوں، آپ بالاخانہ میں منتقل ہوجائیں، آپ نے اپنے سامان کو اٹھوانے کا حکم دیاچنانچہ وہ منتقل کردیا گیا، آپ کا سامان تھوڑاہی تھا۔ میں نے عرض کی یارسول اللہ ! آپ کھانا تناول فرماکر میری طرف کھانا بھیجتے ہیں میں جب اسے دیکھتا ہوں تو جہاں آپ کی انگلیوں کے نشان نظر آتے ہیں میں ان پر اپنا ہاتھ رکھتا ہوں بالآخریہ کھانا جو آپ نے واپس میری طرف بھیجا میں نے تلاش کیا تو اس میں مجھے آپ کی انگلیوں کے آثار نظر نہ آئے تو رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : ہاں، اس میں پیاز تھی اور مجھے اچھا نہ لگا کہ میں اس فرشتہ کی وجہ سے جو میرے پاس آتا ہے اسے کھاؤں باقی تم لوگ اسے کھالو۔ ابونعیم، ابن عساکر