41833- عن عمر قال: رأيت رسول الله صلى الله عليه وسلم دعا بثياب جدد فلبسها، فلما بلغت تراقيه قال: "الحمد لله الذي كساني ما أواري به عورتي، وأتجمل به في حياتي"؛ ثم قال: "والذي نفسي بيده! ما من عبد مسلم يلبس ثوبا جديدا ثم يقول مثل ما قلت ثم يعمد إلى سمل " من أخلاقه التي وضع فيكسوه إنسانا مسلما فقيرا لا يكسوه إلا لله لم يزل في حرز الله، وفي ضمان الله، وفي جوار الله ما دام عليه منه سلك واحد، حيا وميتا، حيا وميتا، حيا وميتا". "ابن المبارك، وهناد، وابن أبي الدنيا في الشكر، طب في الدعاء، ك، هب وقال: إسناده غير قوي، وابن الجوزي في الواهيات، وحسنه ابن في أماليه".
٤١٨٣٣۔۔۔ حضرت عمر (رض) سے روایت ہے فرمایا : میں نے رسول اللہ کو دیکھا کہ آپ نے نئے کپڑے منگوائے اور پہن لیے جب وہ آپ کی ہنسلی تک پہنچے تو فرمایا : الحمد للہ الذی کسانی ماأواری بہ عورتی واتجمل بہ فی حیاتی پھر فرمایا : اس ذات کی قسم جس کے قبضہ قدرت میں میری جان ہے ! جو بندہ نیاکپڑاپہنتا ہے اور پھر وہی الفاظ کہتا ہے جو میں نے کہے اس کے بعد اپنے ان پرانے کپڑوں کی طرف متوجہ ہو جو اس نے اتارے اور وہ کسی فقیر مسلمان کو صرف اللہ تعالیٰ کے لیے پہناتا ہے توہ وہ ہمیشہ اللہ تعالیٰ کے حفاظ وامان اور قرب میں رہے گا جب تک اس کے جسم پر ایک دھاگہ بھی باقی رہے گا۔ زندہ مردہ زندہ زندہ مردہ دونوں حالتوں میں۔ ابن المبارک وھنا دوابن ابی الدنیا فی الشکرطبرانی فی الدعائ، حاکم، بیہقی وقال : اسنادہ غیر قوی وابن الجوزی فی الواھیات وحسنہ ابن فی امالیہ