hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 41882

.

كنز العمال

41882
Kanz al-Ummal
41869- عن سويد بن غفلة قال: أقبلنا من الشام وفتح الله لنا فتوحا وعمر ابن الخطاب قاعد بظهر المدينة يتلقانا، ولبسنا الحرير والديباج وثياب العجم، فلما رآه عمر جعل يرمينا، فلبسنا برودا يمانية، فلما انتهينا إليه قال: مرحبا بأولاد المهاجرين! إن الحرير لم يرضه الله لمن كان قبلكم فيرضاه لكم، إن الحرير لا يصلح منه إلا هكذا وهكذا - يعني إصبعا وإصبعين وثلاثا وأربعا."سفيان بن عيينة في جامعه، هب، كر".
٤١٨٦٩۔۔۔ سوید بن غفلۃ سے روایت ہے فرمایا : ہم لوگ شام سے واپس آئے اللہ تعالیٰ نے ہمیں بڑی فتوحات سے نوازا، اور حضرت عمربن الخطاب (رض) مدینہ کے بلند مقام پر بیٹھے ہم سے ملاقات کررہے تھے اور ہم لوگوں نے دبیز اور باریک ریشم اور عجم کالباس پہن رکھا تھا جب حضرت عمر (رض) نے اسے دیکھا تو ہمیں کنکریاں مارنے لگے تو ہم لوگوں نے یمعنی قبائیں پہن لیں۔ جب ہم آپ کے پاس پہنچے تو آپ نے فرمایا : مہاجرین کی اولاد کو خوش آمدید ! ریشم کو اللہ تعالیٰ نے تم سے پہلے لوگوں کے لیے پسند نہیں کیا تو تمہارے لیے پسند کرلے گا۔ اتنے اتنے یعنی ایک دو تین یاچارانگشت کے سواریشم کا استعمال مردوں کے لیے جائز نہیں۔ سفیان بن عیینۃ فی جامعہ، بیہقی فی الشعب ، ابن عساکر