4200 - "ومن مسند عبادة بن الصامت" "كان رسول الله صلى الله عليه وسلم يشغل فإذا قدم الرجل مهاجرا على رسول الله صلى الله عليه وسلم دفعه إلى رجل منا يعلمه القرآن، فدفع إلي رسول الله صلى الله عليه وسلم رجلا كان معي في البيت أعشيه عشاء البيت وكنت أقرئه القرآن، فانصرف إلى أهله فرأى أن عليه حقا فأهدى إلي قوسا، لم أر أجود منها عودا، ولا أحسن منها عطفا فأتيت رسول الله صلى الله عليه وسلم، فقلت ما ترى يا رسول الله؟ فقال: جمرة بين كتفيك إن تعلقتها، أو قال تقلدها "."طب ك ق".
4200: (مسند عبادۃ ابن الصامت) رسول اکرم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) اکثر اوقات (دینی فرائض میں) مشغول رہتے تھے۔ جب کوئی شخص ہجرت کرکے آپ کی خدمت میں آتا تو آپ قرآن پڑھانے کے لیے اس کو ہم میں سے کسی شخص کے سپرد کردیتے۔ چنانچہ نبی کریم (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ایک شخص کو میرے سپرد کیا۔ جو گھر میں میرے ساتھ بھی رہتا تھا، میں اس کو عشاء کا کھانا کھلاتا اور پھر قرآن پڑھاتا۔ پھر وہ اپنے گھر لوٹ گیا اور اس نے خیال کیا کہ میرا اس پر کوئی حق ہے۔ لہٰذا اس نے ایک کمان مجھے ہدیہ میں پیش کی۔ میں نے اس سے اچھی لکڑی کی کمان نہیں دیکھی تھی۔ اور نہ اس سے زیادہ اچھی لچک والی ! چنانچہ میں یہ کمان لے کر حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی خدمت میں آیا۔ اور پوچھا : یا رسول اللہ ! آپ کا اس کے بارے میں کیا خیال ہے۔ فرمایا یہ تو نے انگارہ اپنے کاندھوں کے درمیان لٹکا رکھا ہے۔ الکبیر للطبرانی، مستدرک الحاکم، السنن للبیہقی)