hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 42087

.

كنز العمال

42087
Kanz al-Ummal
42074- عن رافع بن خديج قال: دخل علي خالي يوما فقال: نهانا رسول الله صلى الله عليه وسلم اليوم عن أمر كان لكم نافعا، وطواعية الله ورسوله أنفع لنا وأنفع لكم، مر على زرع فقال: "لمن هذا"؟ فقالوا: لفلان، قال: "فلمن الأرض"؟ قالوا: لفلان، قال: "فما شأن هذا"؟ قالوا: أعطاها إياه على كذا وكذا، فقال النبي صلى الله عليه وسلم: "لأن يمنح أحدكم أخاه خير له من أن يأخذ عليها خراجا معلوما"، ونهى عن الثلث والربع وكراء الأرض، قال أيوب: فقيل لطاوس: إن ههنا ابنا لرافع بن خديج يحدث بهذا الحديث، فدخل عليه ثم خرج فقال: قد حدثني من هو أعلم من هذا، إنما مر رسول الله صلى الله عليه وسلم بزرع فأعجبه فقال: لمن هذا؟ قالوا: لفلان، قال: فلمن الأرض؟ قالوا: لفلان، قال: وكيف؟ قالوا: أعطاها إياه على كذا وكذا؛ فقال النبي صلى الله عليه وسلم: لأن يمنح أحدكم أخاه خير له. يقول: نعم هو خير له، ولم ينه عنه."عب" "
٤٢٠٧٤۔۔۔ رافع بن خدیج (رض) سے روایت ہے فرمایا : ایک دن میرے ماموں میرے پاس آکر کہنے لگے : آج رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے ہمیں اس کام سے روک دیا ہے جو تمہارے لیے فائدہ مندھتا۔ البتہ اللہ تعالیٰ اور اس کے رسول کی اطاعت ہمارے اور تمہارے لیے زیادہ نفع بخش ہے آپ ایک کھیتی کے پاس گزرے فرمایا : یہ فصل کس کی ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں کی فرمایا : زمین کس کی ہے ؟ لوگوں نے کہا : فلاں کی ، فرمایا : اس کا کیا معاملہ ہے ؟ لوگوں نے کہا : اسے اتنے اتنے پر دی ہے تو نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین بخشے یہ اس سے بہتر ہے کہ اس پر مقراجرت لے۔ اور تہائی چوتھائی اور زمین کے کرایہ سے منع فرمایا : ایوب نے فرمایا : کسی نے طاؤس سے کہا : یہاں حضرت رافع بن خدیج کا ایک بیٹا ہے جو یہ حدیث بیان کرتا ہے تو وہ اس کے پاس گئے پھرو اپس آئے اور فرمایا : کہ مجھے یہ حدیث اس شخص نے سنائی جو تم سے زیادہ علم والا ہے رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ایک کھیتی پر سے گزرے تو وہ آپ کو اچھی لگی فرمایا : یہ کس کی فصل ہے لوگوں نے کہا : فلاں کی فرمایا زمین کس کی ہے لوگوں کے کہا : فلاں کی فرمایا : کیسے ؟ لوگوں نے کہا : اتنے اتنے پر اسے دی ہے نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے فرمایا : تم میں سے کوئی اپنے بھائی کو زمین بخشے یہ اس کے لیے بہتر ہے فرماتے ہاں وہ اس کے لیے بہتر ہے اور آپ نے اس سے منع نہیں فرمایا۔ رواہ عبدالرزاق