hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 42091

.

كنز العمال

42091
Kanz al-Ummal
42078- أيضا عن مجاهد عن أسيد بن ظهير ابن أخي رافع بن خديج قال: كان أحدنا إذا استغنى عن أرضه أعطاها بالثلث والربع والنصف، ويشترط ثلاثة جداول والقصارة وما سقى الربيع، وكان العيش إذ ذاك شديدا، وكان يعمل فيها بالحديد وبما شاء الله ويصيب منها منفعة، فأبي رافع بن خديج فقال: إن النبي صلى الله عليه وسلم نهاكم عن أمر كان نافعا وطاعة رسول الله صلى الله عليه وسلم أنفع لكم، إن رسول الله صلى الله صلى الله عليه وسلم نهاكم عن الحقل ويقول: من استغنى عن أرضه فليمنحها أخاه أو ليدع، وينهاكم عن المزابنة - والمزابنة أن يكون الرجل له المال العظيم من النخل فيأتيه الرجل فيقول: قد أخذته بكذا وكذا وشيئا من تمر."عب".
٤٢٠٧٨۔۔۔ اسی طرح مجاہد اسید بن ظہیر جو رافع بن خدیج (رض) کے چچازاد بھائی ہی سے روایت کرتے ہیں فرمایا : ہم میں سے جس کو اپنی زمین کی ضرورت نہ ہوتی تو وہ اسے تہائی چوتھائی اور آدھے پردے دیتاتین نالیاں زمین کا زرخیر حصہ اور جنہیں بڑی نالی سیراب کرتی ان کی شرط لگالیتا اور زندگی بھی اس وقت تنگ تھی اور ان میں لوہے کے آلات اور جو چیزیں اللہ تعالیٰ چاہتا ان سے کام ہوتا اور ان سے نفع حاصل ہوتا تو رافع بن خدیج (رض) نے اس کا انکار کیا اور فرمایا : کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں اس کام سے منع فرمایا : جو تمہارے لیے نفع بخش تھا جب کہ رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کی فرمان برداری تمہارے لیے زیادہ فائدہ مند ہے اور رسول اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے تمہیں کھیت سے منع فرمایا ہے اور فرمایا : جسے اپنی زمین کی ضرورت نہ ہو وہ اپنے بھائی کودے دے یاچھوڑدے اور تمہیں مزابنہ سے بھی روکتے تھے اور مزابنہ یہ ہے کہ ایک شخص کی کھجوروں کا بہت زیادہ مال ہو پھر اس کے پاس کوئی شخص آتا ہے اور کہتا ہے میں انھیں اتنے اتنے پیسوں اور کچھ کھجوروں کے عوض لے لیا۔ رواہ عبدالرزاق