hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 42122

.

كنز العمال

42122
Kanz al-Ummal
42109- أما! إنكم لو أكثرتم ذكر هاذم اللذات لشغلكم عما أرى: الموت فأكثروا ذكر هاذم اللذات: الموت، فإنه لم يأت على القبر يوم إلا تكلم فيه فيقول: أنا بيت الغربة، وأنا بيت الوحدة، وأنا بيت التراب، وأنا بيت الدود؛ فإذا دفن العبد المؤمن قال له القبر: مرحبا وأهلا! أما! إن كنت لأحب من يمشي على ظهري إلي فإذا وليتك اليوم وصرت إلي فسترى صنيعي بك! فيتسع له مد بصره، ويفتح له باب إلى الجنة، وإذا دفن العبد الفاجر أو الكافر قال له القبر: لا مرحبا ولا أهلا! أما! إن كنت لأبغض من يمشي على ظهر إلي فإذا وليتك اليوم وصرت إلي فسترى صنيعي بك! فيلتئم عليه حتى تلتقي عليه، وتختلف أضلاعه، ويقيض له سبعون تنينا لو أن واحدا منها نفخ في الأرض ما أنبتت شيئا ما بقيت الدنيا، فينهشه ويخدشنه حتى يقضى به إلى الحساب؛ إنما القبر روضة من رياض الجنة أو حفرة من حفر النار."ت " - عن أبي سعيد".
٤٢١٠٩۔۔۔ اگر تم لذتوں کو توڑنے والی کا ذکر بکثرت کروتو تمہیں ان چیزوں سے جو میں دیکھ رہاہوں غافل کردے موت ؟ لذتوں کو توڑنے والی کا ذکر زیادہ کرو موت ! قبرروز پکار کر کہتی ہے : میں بےوطنی کا گھر ہوں میں تنہائی کا گھر ہوں میں مٹی، کیڑوں کا گھر ہوں جب مومن بندہ دفن کیا جاتا ہے تو قبر اس سے گویا ہو کر کہتی ہے : خوش آمدید ! میری پشت پر جتنے لوگ چلتے تھے تو مجھے ان میں سب سے اچھا لگتا ہے آج جب میں تیرے پاس ہوں اور تویہاں آگیا تو عنقریب اپنے ساتھ میرا سلوک دیکھ لے گا۔ تو حد نظر قبروسیع ہوجاتی ہے اور جنت کی طرف یک دروازہ کھل پاتا ہے۔ اور جب کافر بندہ دفن کیا جاتا ہے تو قبراس سے کہتی ہے تیرا آنانا مبارک ہو ! میری پشت پرچلنے والوں میں سے تو مجھے سب سے زیادہ ناپسند ید ہ تھا آج جب تو میرے قریب ہوگیا اور میرے پاس آگیا تو اپنے ساتھ میرا سلوک بھی دیکھ لے گا۔ توقبراس پر تنگ ہوناشروع ہوتی ہے یہاں تک کہ آپس میں مل جاتی ہے اور اس کی پسلیاں آپس میں گھس جاتی ہیں پھر اس پر سترسانپ مقرر کئے جاتے ہیں اگر ان میں سے ایک دنیا میں پھونک ماردے تو رہتی دنیا تک کوئی چیز نہ اگے وہ اسے دستے اور نوچتے رہیں گے یہاں تک کہ حساب کا وقت قریب آجائے گا سوقبر جنت کے باغوں میں سے ایک باغ ہے یا جہنم کے گھڑوں میں سے ایک گھڑا ہے۔ ترمذی عن ابی سعید، کلام۔۔۔ ضعیف الجامع ١٢٣١۔