hadith book logo

Kanz al-Ummal: Hadith 42156

.

كنز العمال

42156
Kanz al-Ummal
42143- يا أهل الإسلام! أتتكم الموتة بالوجبة لا ردة سعادة أو شقاوة لازمة راكبة، جاء الموت بما فيه بالروح والراحة في جنة عالية لأولياء الله في دار الخلود الذين سعيهم؟ ورغبتهم فيها، جاء الموت بما جاء به الخزي والندامة والكرة الخاسرة في نار حامية لأولياء الشيطان من أهل دار الغرور الذين سعيهم ورغبتهم فيها، ألا! إن لكل ساع غاية وإن غاية كل ساع الموت، فسابق ومسبوق."أبو الشيخ في أماليه وابن عساكر - عن الوضين بن عطاء عن تميم عن يزيد بن عطية أن رسول الله صلى الله عليه وسلم كان إذا رأى الناس قد غفلوا خرج حتى يأتي المسجد فيقوم عليه فينادي بأعلى صوته - فذكره".
٤٢١٤٣۔۔۔ اے اہل اسلام ! موت تمہارے پاس ایک دھماکہ لے کر آئی جسے لوٹنا نہیں نیک بختی یا بدبختی ضروری اور چمٹنے والی اللہ تعالیٰ کے دوستوں کے لیے بلند جنت میں موت راحت وقرار لائی جو ہمیشگی کے گھر میں رہیں گے، جن کی کوشش ورغبت اس کے بارے میں تھی۔ اور شیطان کے ان دوستوں کے لیے جو دھوکے کے گھر میں رہنے والے تھے اسی میں رہنے کی ان کی رغبت و کوشش تھی ان کے لیے موت رسوائی ندامت اور خسارہ کا لوٹنا گرم آگ میں لائی خبردار ! ہر کوشش کرنے والے کی ایک حد ہے اور ہر کوشش کرنے والے انسان کی حد موت ہے یا تو وہ آگے بڑھنے والا ہے یا اس سے آگے نکل جایا کرتا ہے (ابوالشیخ فی امالیہ وابن عساکر۔ عن الوضین بن عطاء عن تمیم یزید بن عطیۃ کہ رسول اللہ اللہ (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) جب لوگوں کو غفلت میں دیکھتے تو باہر نکل کر مسجد میں آتے تو ان کے سامنے کھڑے ہو کر بآواز بلند پکارتے۔ پھر یہ حدیث ذکر کی۔)