42169- إذا حضر المؤمن أتته ملائكة الرحمة بحريرة بيضاء فيقولون: اخرجي راضية مرضيا عنك إلى روح وريحان ورب غير غضبان! فتخرج كأطيب ريح المسك حتى أنه ليناوله بعضهم بعضا، حتى يأتوا به باب السماء فيقولون: ما أطيب هذه الريح التي جاءتكم من الأرض! فيأتون به أرواح المؤمنين، فلهم أشد فرحا من أحدكم بغائبه يقدم عليه، فيسألونه: ماذا فعل فلان ماذا فعلت فلانة؟ فيقولون: دعوه، فإنه كان في غم الدنيا، فإذا قال: أما أتاكم؟ قالوا: ذهب به إلى أمه الهاوية. وإن الكافر إذا حضر أتته ملائكة العذاب بمسح فيقولون: اخرجي ساخطة مسخوطا عليك إلى عذاب الله! فتخرج كأنتن ريح جيفة حتى يأتوا بها باب الأرض فيقولون: ما أنتن هذه الريح! حتى يأتوا بها أرواح الكفار."ن، " ك - عن أبي هريرة".
٤٢١٦٩۔۔۔ مومن پر جان کنی کی کیفیت ہوتی ہے تو رحمت کے فرشتے اس کے سفیدریشم لے کر آتے ہیں اور کہتے ہیں : اے روح خوش ہو کر اور تجھ سے رضامندی ہے راحت ریحان اور اس رب کی طرف نکل جو ناراض نہیں پھر وہ یوں نکلتی ہے جیسے عمدہ خوشبو اور وہ فرشتے ایک دوسرے کو دیتے دیتے آسمان کے دروازہ تک پہنچ جاتے ہیں تو وہ کہتے ہیں : یہ زمین سے آنے والی روح کتنی اچھی ہے پھر وہ اسے مومنوں کی ارواح کے پاس لے آتے ہیں تو انھیں ایسی ہی خوشی ہوتی ہے جیسے تم کسی غائب آدمی کی موجودگی سے محسوس کرتے ہو اس کے بعد وہ اس سے پوچھتے ہیں کہ فلاں نے کیا کیا اور فلانی نے کیا کیا ؟ تو فرشتے ان سے کہتے ہیں : اسے رہنے دو کیونکہ یہ دنیا کے غم میں تھا پھر جب وہ کہتا ہے کہ کیا وہ تمہارے پاس نہیں آیا ؟ تو وہ کہتے ہیں اسے جہنم کی طرف لے گئے۔ اور کافر کی جب جانکنی کی گھڑی ہوتی ہے تو عذاب کے فرشتے ٹاٹ کا ٹکڑا لے کر اس کے پاس آتے ہیں اور کہتے ہیں : نکل اس حال میں کہ تو ناراض اور تجھ پر ناراضگی ہے اللہ تعالیٰ کے عذاب کی طرف چنانچہ وہ مردار کی بدبو کی طرح نکلتی ہے یہاں تک کہ اسے زمین کے دروازے تک لاتے ہیں تو وہ فرشتے کہتے ہیں : کتنی بدبودا رہے یہاں تک کہ اسے کفار کی ارواح تک لے آتے ہیں۔ نسائی ، حاکم عن ابوہریرہ