4221 - عن زر بن حبيش قال: "قرأت القرآن من أوله إلى آخره على علي بن أبي طالب، فلما بلغت الحواميم قال: لقد بلغت عرائس القرآن، فلما بلغت رأس ثنتين وعشرين آية من حمعسق {وَالَّذِينَ آمَنُوا وَعَمِلُوا الصَّالِحَاتِ فِي رَوْضَاتِ الْجَنَّاتِ} الآية بكى حتى ارتفع نحيبه، ثم رفع رأسه إلى السماء وقال: يا زر أمن على دعائي، ثم قال: اللهم إني أسألك إخبات المخبتين، وإخلاص الموقنين، ومرافقة الأبرار واستحقاق حقائق الإيمان، والغنيمة من كل بر والسلامة من كل إثم ووجوب رحمتك، وعزائم مغفرتك، والفوز بالجنة، والنجاة من النار يا زر إذا ختمت فادع بهذه فإن حبيبي رسول الله صلى الله عليه وسلم أمرني أن أدعو بهن عند ختم القرآن". "ابن النجار"
4221: زر بن حبیش سے مروی ہے میں نے شروع سے آخر تک پورا قرآن حضرت علی (رض) سے پڑھا جب میں حامیم (حم سے شروع ہونے والی سورتوں) پر پہنچاتو فرمایا : تو قرآن کی دلہنوں تک پہنچ گیا ہے۔ جب میں حمعسق کی بائیسویں آیت والذین آمنوا وعملوا الصالحات فی روضات الجنات پر پہنچا تو آپ (رض) رو پڑے حتی کہ آپ کی آواز بلند ہوگئی پھر آسمان کی طرف سر اٹھا دیا اور مجھے فرمایا اے زر ! میری دعا پر آمین کہتا جا۔ پھر دعا کی :
اللہم انی اسالک اخبات المخبتین، و اخلاص المومنین، ومرافقہ الابرار و استحقاق حقائق الایمان، والغنیمۃ من کل بر والسلامۃ من کل اثم و وجوب رحمتک ، وعزائم مغفرتک، والفوز بالجن، والنجاۃ من النار۔
اے اللہ میں عاجزی کرنے والوں کی عاجزی مانگتا ہوں، یقین والوں کا ایمان مانگتا ہوں، نیکوں کا ساتھ مانگتا ہوں، ایمان کے حقائق مانگتا ہوں، ہر نیکی کا حصول چاہتا ہوں، ہر برائی سے پناہ چاہتا ہوں، تیری رحمت کو واجب کرنے والی چیزیں اور تیری یقینی مغفرت مانگتا ہوں، جنت کی کامیابی اور جہنم سے نجات کا سوال کرتا ہون۔
پھر فرمایا : اے زر ! تو بھی ان کلمات کے ساتھ دعا کیا کر، مجھے میرے محبوب حضور (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) نے حکم دیا تھا کہ ختم قرآن کے موقع پر ان کلمات کو پڑھا کروں۔ رواہ ابن النجار۔