42198- من أحب لقاء الله أحب الله لقاءه، ومن كره لقاء الله كره الله لقاءه، قالوا: يا رسول الله! كلنا نكره الموت! قال ليس ذلك كراهية الموت، ولكن المؤمن إذا حضر جاءه البشير من الله بما هو صائر إليه، فليس شيء أحب إليه من أن يكون قد لقي الله فأحب لقاء الله، فأحب الله لقاءه، وإن الفاجر إذا حضر جاءه ما هو صائر إليه من الشر فكره لقاء الله، فكره الله لقاءه."حم، ن - عن أنس".
٤٢١٩٨۔۔۔ جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات پسند کرے اللہ تعالیٰ اس کی ملاقات پسند کرتا ہے اور جو اللہ تعالیٰ کی ملاقات نہ چاہے اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات نہیں چاہتا لوگوں نے عرض کی : یارسول اللہ ! ہم سب بھی تو موت کو نہیں چاہتے آپ نے فرمایا : یہ موت سے نفرت کا مطلب نہیں بلکہ بات یہ ہے کہ جب مومن کی موت آتی ہے تو جو نعمتیں ایسے ملنے والی ہوتی ہیں ان کی بشارت دینے اللہ تعالیٰ کی طرف سے ایک فرشتہ آتا ہے تو اللہ تعالیٰ کی ملاقات سے بڑھ کر کوئی چیز اسے محبوب نہیں ہوتی اس لیے وہ اللہ تعالیٰ کی ملاقات پسند کرتا ہے۔ اور اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات پسند کرتا ہے۔ اور فاجر و گناہ گار کی جب موت آتی ہے تو جو مصائب اس پر آنے ہوتے ہیں ان کی وجہ سے وہ اللہ تعالیٰ سے ملنا ناپسند کرتا ہے تو اللہ تعالیٰ بھی اس کی ملاقات ناپسند کرتا ہے۔ مسنداحمد، نسائی عن انس