42449- إني لم أنه عن البكاء، إنما نهيت عن النوح عن صوتين أحمقين فاجرين: صوت عند نغمة لهو ولعب ومزامير شيطان، وصوت عند مصيبة خمش وجوه، شق جيوب ورنة شيطان؛ إنما هذه رحمة، ومن لا يرحم لا يرحم، يا إبراهيم! لولا أنه أمر حق ووعد صدق وأنها سبيل مأتية وأن أخرانا ستلحق أولانا لحزنا عليك حزنا هو أشد من هذا! وإنا بك لمحزونون، تدمع العين ويحزن القلب ولا نقول ما يسخط الرب."ابن سعد، ق - عن جابر؛ وروى ت عنه بعضه وحسنه - عن عبد الرحمن بن عوف".
٤٢٤٤٩۔۔۔ میں رونے سے نہیں روکتا البتہ میں نے نوحہ کرنے سے منع کیا ہے ایسی دوآوازوں سے جو احمقانہ اورفاجرانہ ہے ایک وہ آوازجو کسی لہو ولعب کے وقت نغمہ سرائی سے ہوا ور شیطان کی بانسری کی آواز اور وہ آواز جو کسی مصیبت کے وقت چہرے نوچنے گربیان بھاڑنے اور شیطانی آواز بلند کرنے کے وقت ہو۔ یہ آنسو تو رحمت ہیں جو رحم نہیں کرتا اس پر رحم نہیں کیا جاتا اے ابراہیم ! اگر یہ معاملہ برحق اور وعدہ سچانہ ہوتا اور یہ راستہ جاری نہ ہوتا اور ہمارے پچھلے لوگ اگلوں کے ساتھ نہ ملتے تو ہمیں تم پر اس سے زیادہ غم ہوتا اور ہم تمہاری وجہ سے غم گین ہیں آنکھ اشکبار اور دل غمزدہ ہے لیکن ہم رب کو ناراض کرنے والی کوئی بات زبان پر نہ لائیں گے۔ ابن سعد بخاری مسلم عن جابر وروی الترمذی عنہ بعضہ وحسنہ عن عبدالرحمن بن عوف