42501- ما من شيء لم أكن أريته إلا رأيته في مقامي هذا حتى الجنة والنار! وقد أوحى إلي أنكم تفتنون في قبوركم مثل أو قريبا من فتنة المسيح الدجال، يؤتي أحدكم فيقال: ما علمك بهذا الرجل؟ فأما المؤمن أو الموقن فيقول: هو محمد رسول الله، جاءنا بالبينات والهدى فأجبنا وآمنا واتبعنا، هو محمد - ثلاثا، فيقال له: نم صالحا، قد علمنا أن كنت لموقنا به؛ وإن المنافق أو المرتاب فيقول: لا أدري، سمعت الناس يقولون شيئا فقلته."حم، ق " – عن أسماء بنت أبي بكر".
42501: ۔۔۔ جو چیز میں نے نہیں دیکھی تھی وہ مجھے اس جگہ دکھائی گئی ہے یہاں تک کہ جنت اور جہنم بھی، میری طرف یہ وحی کی گئی ہے کہ تمہیں تمہاری قبروں میں خیر سے محروم دجال کے فتنہ یا اس کے قریب آزمائش میں ڈالا جائے گا، تمہارے پاس فرشتوں کو بھیجا جائے گا پھر کہا جائے گا :
اس شخص محمد کے متعلق تمہارا کیا علم ہے ؟ تو مومن اور یقین رکھنے والا شخص کہے گا : وہ محمد اللہ تعالیٰ کے رسول ہیں جو ہمارے پاس واضح نشانیاں اور ہدایت لے کر آئے پس ہم نے ان کو قبول کیا ان پر ایمان لائے اور ان کی پیروی کی، وہ محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) ہیں۔ تین بار کہے گا۔
پھر اس سے کہا جائے گ : آرام سے سوجا، ہم جانتے تھے کہ تجھے اس بات کا یقین ہے جب کہ منافق اور شک کرنے والا شخص کہے گا : مجھے پتہ نہیں، میں نے لوگوں کو ایک کہتے سنا تو میں نے بھی وہ کہہ دی۔ (مسند احمد، بخاری عن اسماء بنت ابی بکر۔
اس حدیث سے ثابت ہوا کہ نبی (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کے بارے میں قطعی اور یقینی علم ہونا چاہیے کہ آپ انسان تھے اور اللہ تعالیٰ کے نبی اور آخری رسول ہیں، جو لوگ اس بات کا یقین رکھتے ہیں انھیں مومن اور یقین والا کہا گیا ہے، جب کہ جنہیں یہ پتہ نہیں کہ ہمارے نبی بشر تھے یا نہیں، یہ شک والی بات ہوئی ایسے لوگوں کو منافق اور شک کنندہ کہا گیا ہے۔ مترجم۔