42507- إن المؤمن يقعد في قبره حتى ينكفئ عنه من شهده، فيقال له: رجل يقال له "محمد" فإن كان مؤمنا قال: هو عبد الله ورسوله، فيقال له: نم، نم، نامت عيناك! وإن كان غير مؤمن قال: والله ما أدري، سمعت الناس يقولون شيئا فقلته ويخوضون فخضته، فيقال له: نم، لا نامت عيناك."طب - عن أسماء بنت أبي بكر".
42507: ۔۔۔ جو لوگ مومن کے جنازے میں آتے ہیں جب وہ چلے جاتے ہیں تو اسے اس کی قبر میں بٹھایا جاتا ہے، پھر اس سے کہا جاتا ہے : وہ شخص جسے محمد (صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم) کہا جاتا ہے پس اگر وہ مومن ہوا تو کہے گا : وہ اللہ تعالیٰ کے بندے اور اس کے رسول ہیں پھر اس سے کہا جائے گا : سوجا۔ سوجا۔ تیری آنکھ لگ جائے۔ اور اگر مومن نہ ہوا تو کہے گا : اللہ کی قسم ! مجھے پتہ نہیں، میں نے لوگوں کو ایک بات کہتے سنا تو میں نے بھی وہ کہہ دی وہ کسی بات میں بحث کرتے تو میں بھی ان کے ساتھ بحث میں شریک ہوگیا، اس سے کہا جائے گا، سو (مگر) تیری آنکھ نہ لگے۔ طبرانی فی الکبیر عن اسماء بنت ابی بکر۔